کوڑے
ہم لوگ اتنے ماڈرن ہو چکے ہیں کہ ہمیں اسلامی سزائیں ظلم لگتی ہیں. ہمیں اسلامی سزائیں فرسودہ لگتی ہیں.
بلکہ یہ این جی اوز( غیر سرکاری تنظیم) تو اسلام کا بھی اپذیٹٹد اور اپڈیٹٹڈ ورژن مانگتی ہیں.
مجھے سوات کے واقعہ کی حقیقت کا علم نہیں نہ ہی میں اس کی حمایت یا مخالفت میں ہوں.
پر ہم مسلمان قوم ہیں اور ہمیں اسلامی شعائر اپنانے میں فخر ہونا چاہیے نہ کہ شرمندگی. سوات کے واقعہ کے خلاف جتنی بھی آوازیں اٹھیں سب گواہی دیں گے کہ سب کی سب بے پردہ اور نام نہاد ماڈرن خواتین تھیں.
اگر ہمارے نبی پاک صلئ اللہ علیہ وسلم کہ سکتے ہیں کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کی مرتکب ہوتے تو اس کے ہاتھ بھی کٹتے تو ہم کون ہیں ان سزائوں کے خلاف بولنے والے.ہاتھ کٹیں گے، سنگساری ہو گی، خون کا بدلہ خون ہو گا تو سب کی کل سیدھی ہو جاوے گی. سب مسلمانوں کی عظمت اور نجات اسلامی نظام حیات میں ہی ہے. اللہ ہم سب کی خطائیں بخش دے اور ہمیں اسلامی نظام کے نفاظ اور شریعت محمدی کے مطابق زندگی ڈھالنے اور گزارنے کی توفیق دے. آمین

اس ویڈیو کی مخالفت صرف مغرب زدہ خواتین کے علاوہ بھی بہت سے لوگوں نے کی ہے اور ان میں، میں بھی شامل ہوں۔ میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ سزا دینے پر اختلاف نہیں، کیسے دی گئی اس پر ہے۔ سوچیں ذرا، کل اگر آپ کو اپنے شہر میں روک کر داڑھی منڈا ہونے کے جرم میں سب کے سامنے سڑک پر درے لگائے جائیں تو کیسا لگے گا۔۔۔
اسی پر بس نہیں ہے جناب ۔ ہمارے اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے ہموطن تو قرآن کو سمجھنا بھی کم ہی گوارہ کرتے ہیں ۔ رہی موجودہ حکومت تو نئی تعلیمی پالیسی آنے والی ہے ۔ میں اِن شاء اللہ جلد اس پر لکھوں گا
ہم آپ کی بات سے اتفاق کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ اسلام کے خلاف سازش ہے۔
میں بھی یہی کہوں گا کہ سزا ٹھیک ہے لیکن سزا دینے کا فیصلہ کرنے والا کون ہے؟ فیصلے میں انصاف کتنا ہے؟
::جعفر::
بھاائی دیکھیے اسلام میں جرم کی گنجائیش ہی نہیں ہے. اسلام کے اصولوں کو جھٹلانے والا مسلمان ہی نہیں.
خیر جب غیر اسلامی حرکات کرنے والے شخص کو سر عام سزائیں ملیں گی تو دیکھنے والے عبرت لیں گے اور ہمت ہی نہیں کریں گے کچھ غلط کرنے کی. چاہے مجرم میں ہوں یا آپ یا کوئی بھی.
افتخار اجمل بھوپال::
جی بجا فرمایا آپ نے ہمارے ہاں قرآن کو ایک مقدس کتاب کا درجہ دے کر ریشمی کپڑے میں ملبوس اونچی جگہ رکھا جاتا ہے. بلکہ ایک تعویز ہی سمجھا جاتا ہے کہ پڑا رہے. ہاتھ نہ لگے بس برکت کی شعائیں نکلتی رہیں اس سے.
میرا پاکستان::
پاکستان سازشوں اور سازشیوں سے گھرا پڑا ہے. یہ لوگ ملک کو کھاتے ہیں. توڑتے ہیں اور جا کر اپنے آقائوں کے پاس پناہ گزیں بن جاتے ہیں. عوام جائے بھاڑ میں. اور عوام تو آ بیل مجھے مار کے مصداق دوبارہ کیا بار بار ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے…
ڈفرستان::
آپ بھی حق بجانب ہیں. پر اس بات کی بناء پر سسٹم کو تو غلط نہیں کہا جا سکتا نا. ہاں اسلام کے نفاذ کے دعوے دار خود بھی داءرہء اسلام میں رہیں نہ کہ اپنے پختون رسوم و رواج کو اسلام کا ناپ دے کر اسلام کو بدنام کریں
ڈفر اردو ایڈیٹر کا شکریہ پر تمہارے بلاگ کا اردو ایڈیٹر استعمال کرنے کی لت پڑ چکی ہے. آج بھی وہی استعمال کر رہا ہوں. بھائی اجازت دے دے ورنہ چوری ہی کا مرتکب نہ ہوتا رہوں میں. کہ دے کے لفنگا مجاز ہے میرا ایڈیٹر استعمال کرنے کا ؛)
سزا ٹھیک ہے عین اسلامی ہے لیکن طریقہ کچھ اچھا نہیں عورت اور مرد میں کچھ فرق رکھا جائے کوڑے کی سزائیں آج بھی یو اے ای اور سعودیہ میں دی جاتی ہیں اور یہاں جرم کا ریشو نہ ہونے کے برابر ہے آج بھی ہم دروازہ کھول کر سو سکتے ہیں
بلکل اللہ اور اس کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی باتوں کی نفی کی تو گنجائش ہی نہیں ہے لیکن طریقہ درست ہونا چاہئے ہمارے یہاں معاملہ یہ ہے کہ کمزور کو پکڑ لو اور ظالم کو چھوڑ دو اس طریقے سے مجھے اختلاف ہے
بلاگ کی نئی شکل سے بھی مجھے اختلاف ہے اسکو پڑھنا انتہائی تکیف دہ ہے فونٹ کو زرا بڑا کیجئے
انا::
بلاگ کا تھیم آپ کے مشورہ پر تبدیل کر دیا۔ شکریہ
nice pa ge….
عزیزان گرامی لفنگے بھائ،
مِیں نے آپ کی بلاگ مزاق میں کھولی، مگر آپ کے خیالات، کم از کم جو اس پوسٹ میں ہیں سے پورا اتفاق کرتا ہءں۔
ایک ہوتی ہے شرمندگی، ہر انسان گناہگار ہے، جب انسان کوئ گناہ کر بیٹے اور اپنے رب سے معافی مانگے تو اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔ دوسری ہوتی ہے حرام زدگی، کہ ایک تو انسان گناہ کرے اور پھر اللہ کے قانون، اس کے نافز کرنے والوں پر تنقید کرے اور ان کا مزاق اڑاَے۔
اگر آپ بغور جایئزہ لیں تو سوات والے معاملے میں ہم پاکستانیں کا یہی روی تھا۔ ایک تو گناہ، پھر گناہ گار کو مظلوم بنا کر پیش کرنا اور اللہ اور رسول کے نازل کردہ دین کا مزاق اڑانا – ہم اس قابل ہیں کہ قوم نوح، لوط، عاد، کی طرح تباہ کردے جائں۔
salam to all muslims,
jo swat may larki ko di gayee saza ki himayat karta hai wo kafir hai. may swat ka rehne wala hoo aur mujh se zyada koi iss ke bare may nahi janta na GEO tv na PTV NEWS na ARY News na koi news paper, iss larki ke sath shohar ne jhagra kiya aur larki ghar se naraz ho ghar apne 11 saal dewer (brother of husband) ke sath apne baap ke ghar chali gayee iss baat par oss ko saza di gayee hai. aur rahi fahashi ki baat to meri omer 25 saal hai may ne aaj tak swat may lahore karachi islamabad aur peshawar jitni fahashi nahi dekhi. agar kisi ko fahashi khatam karni hai to mehrabani kar ke pehle heera mandi ko band kar le ..
aur Mr lafanga aap ko jis cheez ke bare may malomat nahiho os ke from add karna band kejiye
SHUKRIA
زید بھائی
میں نے ایسی کوئی بات نہیں لکھی جس کا مجھے علم نہیں۔ آپ تو بہت جذباتی ہو گئے۔
آپ شاید متن اچھی طرح سمجھ ہی نہیں پائے۔
yes, you are right. the propaganda was actually a hoax. but at the same time, i want to add, the hoax was not created because some girl was beaten by sticks / korays, but we protested when those animals ( jangli ) think they are the real followers of Islam and they have every right to maintain a state within a state !
problem is not with islamic rules are regulations , or broad-minded or less-broad-minded muslim, the actual problem was that islam was linked to un-educated, cruel, out-dated looking, fazool people of the world, which is not acceptable. All world was laughing on us due to such loosers.
i totally agree with you. it was a propaganda. and kiss ne rights diye hain in logoon ko kay apnay kanoon banatay rahain?