لفنگے کی ڈائری

محبت

Posted in شاعری, فضولیات by لفنگا on April 13, 2009

جب بیٹی چوکھٹ پر کھڑی ہو
اور عزت کا بیوپار کرے
جب باپ کی عزت کھو جائے
جب قوم کی غیرت سو جائے
جب بھائی کو طعنے ملتے ہوں
جب بہنوں کے دل جلتے ہوں
جب ماؤں کی نظریں جھک جائیں
جب سانسیں لبوں پہ رک جائیں
جب شرم و حیا  کا   آمیزہ
جب ایک کنواری دوشیزہ
جب بے شرمی کو اپنا لے
جب خود کو ذلت میں ڈھالے
جب غیر کے سینے لگ جائے
اور اپنا آپ گنوا آئے
تو ایسی حالت کو اے لوگو!
ہم لوگ محبت کہتے ہیں

16 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. Rehan Mirza said, on April 13, 2009 at 9:16 pm

    Comment karne ka dil to nai kar raha is par … phir bhi

    bohat hi ghalt interpretation ki hey mohabbat ki

  2. jafar said, on April 14, 2009 at 5:25 am

    نئیں یار۔۔۔
    اسے محبت نہیں‌ ہوس کہتے ہیں۔۔۔
    محبت اور چیز ہوتی ہے۔۔۔
    انسان گھل کے مر جاتا ہے
    محبوب کو رسوا نہیں ہونے دیتا

  3. افتخار اجمل بھوپال said, on April 14, 2009 at 5:57 am

    اسی لئے تو کسی علقمند نے کہا تھا
    کہتے ہیں جسے عشق ۔ وہ خلل ہے دماغ کا

  4. Rehan Mirza said, on April 14, 2009 at 12:51 pm

    Mere lie phir wo aqalmnad shaks

    Aap hi hey jammal sab

  5. باسم said, on April 14, 2009 at 1:44 pm

    آج کل تو محبت اسی کا نام لگتا ہے۔

  6. ڈفرستان said, on April 14, 2009 at 2:44 pm

    نو کمنٹس

  7. شعیب صفدر said, on April 14, 2009 at 4:19 pm

    بھائی لفنگے کی ڈائرہ میں یہ ہی محبت ہو گی!۔ :)

  8. Lafunga said, on April 14, 2009 at 7:23 pm

    ریحان مرزا::
    مسئلہ محبت کا نہیں جناب۔ مسئلہ موجودہ صورتحال کا ہے۔ دل و دماغ کو استعمال کیجئے اور بتائیے آجکل کیا ہو رہا ہے۔ آپ کے سامنے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان آئے گا۔ کمنٹ کرنا ضروری ہے بھائی۔

    جعفر::
    جناب آج کل خالص دودھ نہیں ملتا، زہر نہیں ملتا۔ آپ سچی محبت کی بات کرتے ہو۔

    افتحار اجمل بھوپال::
    بجا فرمایا آپ نے۔

    ڈفرستان::
    نو کمنٹس میں ہی آپ کمنٹس دے گئے۔ مطلب آپ بھی محبت زدگان میں سے ہو۔ یا ۔۔۔۔

    شعیب صفدر::
    لفنگا اپنی طرف سے تو سچ بولتا ہے۔

    باسم::
    شکر ہے کوئی تو حق سچ کا ساتھی نکلا

  9. میرا پاکستان said, on April 15, 2009 at 11:46 am

    محبت کی بہت ساری تعریفوں میں سے یہ تعریف بھی سوچ و بچار کی دعوت دیتی ہے۔

  10. کامران اصغر کامی said, on April 15, 2009 at 10:38 pm

    بلکل غلط وچار ہیں یہ تعلیم اور تربیت کی کمی کا نتیجہ ہے پیار کو بدنام کرنے کی سازش ہے میں متفق نہی ۔ اگر کوئی امیر یہ کام کرئے تو محبت اور غریب کرے تو یہ شاعری واہ جی واہ ۔۔۔۔۔
    کلیاں عشق کمانا اوکھا
    کسے نو یار بنانا اوکھا

  11. Anaa said, on April 17, 2009 at 8:21 am

    ویسے آخری لائن اس نظم کی نہیں لگتی

  12. [...] لفنگا کے بلاگ سے چرائی ہوئی نظم [...]

  13. غفران said, on May 1, 2009 at 9:57 pm

    سچی بات ہے، محبت آجکل اسی کا نام ھے۔

  14. انکل ٹام said, on May 3, 2009 at 2:56 am

    یہ عشق نہیں فسق ہے ۔۔۔

  15. sohailmahar said, on May 26, 2009 at 9:05 am

    شاباش لفنگے بھائ، شاباش۔ ویسے ہیں تو آپ لفنگے مگر کبھی کبھی سچ بات کرتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ آپ کو دین کی مزید سمجھ دے اور اپنے راستے کا مجاھد بناے

  16. aliadnan said, on August 1, 2009 at 12:22 pm

    کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے لیکن ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ آج کل اسی کہ “محبت” کا نام دیا جاتا ھے

    :(


Leave a Reply