محبت
جب بیٹی چوکھٹ پر کھڑی ہو
اور عزت کا بیوپار کرے
جب باپ کی عزت کھو جائے
جب قوم کی غیرت سو جائے
جب بھائی کو طعنے ملتے ہوں
جب بہنوں کے دل جلتے ہوں
جب ماؤں کی نظریں جھک جائیں
جب سانسیں لبوں پہ رک جائیں
جب شرم و حیا کا آمیزہ
جب ایک کنواری دوشیزہ
جب بے شرمی کو اپنا لے
جب خود کو ذلت میں ڈھالے
جب غیر کے سینے لگ جائے
اور اپنا آپ گنوا آئے
تو ایسی حالت کو اے لوگو!
ہم لوگ محبت کہتے ہیں

Comment karne ka dil to nai kar raha is par … phir bhi
bohat hi ghalt interpretation ki hey mohabbat ki
نئیں یار۔۔۔
اسے محبت نہیں ہوس کہتے ہیں۔۔۔
محبت اور چیز ہوتی ہے۔۔۔
انسان گھل کے مر جاتا ہے
محبوب کو رسوا نہیں ہونے دیتا
اسی لئے تو کسی علقمند نے کہا تھا
کہتے ہیں جسے عشق ۔ وہ خلل ہے دماغ کا
Mere lie phir wo aqalmnad shaks
Aap hi hey jammal sab
آج کل تو محبت اسی کا نام لگتا ہے۔
نو کمنٹس
بھائی لفنگے کی ڈائرہ میں یہ ہی محبت ہو گی!۔
ریحان مرزا::
مسئلہ محبت کا نہیں جناب۔ مسئلہ موجودہ صورتحال کا ہے۔ دل و دماغ کو استعمال کیجئے اور بتائیے آجکل کیا ہو رہا ہے۔ آپ کے سامنے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان آئے گا۔ کمنٹ کرنا ضروری ہے بھائی۔
جعفر::
جناب آج کل خالص دودھ نہیں ملتا، زہر نہیں ملتا۔ آپ سچی محبت کی بات کرتے ہو۔
افتحار اجمل بھوپال::
بجا فرمایا آپ نے۔
ڈفرستان::
نو کمنٹس میں ہی آپ کمنٹس دے گئے۔ مطلب آپ بھی محبت زدگان میں سے ہو۔ یا ۔۔۔۔
شعیب صفدر::
لفنگا اپنی طرف سے تو سچ بولتا ہے۔
باسم::
شکر ہے کوئی تو حق سچ کا ساتھی نکلا
محبت کی بہت ساری تعریفوں میں سے یہ تعریف بھی سوچ و بچار کی دعوت دیتی ہے۔
بلکل غلط وچار ہیں یہ تعلیم اور تربیت کی کمی کا نتیجہ ہے پیار کو بدنام کرنے کی سازش ہے میں متفق نہی ۔ اگر کوئی امیر یہ کام کرئے تو محبت اور غریب کرے تو یہ شاعری واہ جی واہ ۔۔۔۔۔
کلیاں عشق کمانا اوکھا
کسے نو یار بنانا اوکھا
ویسے آخری لائن اس نظم کی نہیں لگتی
[...] لفنگا کے بلاگ سے چرائی ہوئی نظم [...]
سچی بات ہے، محبت آجکل اسی کا نام ھے۔
یہ عشق نہیں فسق ہے ۔۔۔
شاباش لفنگے بھائ، شاباش۔ ویسے ہیں تو آپ لفنگے مگر کبھی کبھی سچ بات کرتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ آپ کو دین کی مزید سمجھ دے اور اپنے راستے کا مجاھد بناے
کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے لیکن ۔ ۔ ۔ آہ ۔ ۔ ۔ آج کل اسی کہ “محبت” کا نام دیا جاتا ھے