یہ جو پرانے زمانے کے سیانے گزرے ہیں۔ فارغ ہی رہا کرتے تھے۔ اور بس باتیں ہی بناتے رہے۔ جو آج کل ہم بے چارے بیوقوفوں کو بات بات پہ سننے کو ملتی ہیں۔ کہ سیانے یہ کہتے ہیں۔ بڑے وہ کہ گئے۔ لو !دسو جی۔۔۔
یہ جو پرانے زمانے کے سیانے گزرے ہیں۔ فارغ ہی رہا کرتے تھے۔ اور بس باتیں ہی بناتے رہے۔ جو آج کل ہم بے چارے بیوقوفوں کو بات بات پہ سننے کو ملتی ہیں۔ کہ سیانے یہ کہتے ہیں۔ بڑے وہ کہ گئے۔ لو !دسو جی۔۔۔
Acha
یاد رکھ کل کو تو بھی سیانوں میں شامل ہونے والا ہے
یار تو فکر نہ کر
تو کبھی سیانا نہیں ہوگا
کیونکہ سیانے لفنگے نہیں ہوتے
جو سیانے ہوتے ہیں وہ فارغ بیٹھنے والے نہیں ہوتے ۔ البتہ دوسروں کو نصیحت کرنے والوں میں زیادہ تر وہ ہوتے ہیں جو خود اپنی بات پر عمل کرنا بیکار سمجھتے ہیں
اللہ بخشے سیانے کہا کرتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ سیانوں کی سیانت پر سوال اٹھائیں گے۔۔ قیامت قریب ہے۔
کدھر غائب ہیں جناب؟