لاڈلا
ہمارے ملک میں لوگ سرکار کا نوکر بننے ( گورنمنٹ جاب) کے ہمیشہ سے شوقین رہے ہیں اور ان کی خو اہش اور دعا ہی رہتی ہے کہ ان کے ہاتھ سرکاری نوکری لگ ہی جائے.
چاہے اس کے لیے انہیں کوئی سفارش ڈھونڈنی پڑے یا رشوت دینی پڑے. رشوت کے پیسے تو پورے کر لینے کی امید پر ادا کیے جاتے ہیں کے دیے ہیں تو لے کر پورے کر ہی لئے جائیں گے.
تو جناب سرکاری نوکری کے اس قدر دیوانہ پن کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے بقول کسی دور دراز پسماندہ علاقے میں نوکری ملے تو تنخواہ وصولی کے دن جائین اور پورے مہینے کی حاضری لگاؤ تنخواہ لو اور گھر…
پر ہمارے ایک عددد دوست جو باعث تحریر آنکہ ہیں وہ اس قدر لاڈلے نکلے کہ کہتے ہیں کہ سرکاری نوکری مل جائے تو کوئی ایسا بندہ ڈھونڈ لیں گے جو تنخواہ بھی گھر پہنچا جایا کرے گا …..

آپ نے مجھے بچپن میں سُنی ایک کہانی یاد کرا دی ۔ دو آدمی ایک بیری کے نيچے لیٹے تھے مگر اُن کے اوپر دھوپ پڑ رہی تھی ۔ ایک راہ گذر نے کہا “سائے میں تو ہو جاؤ”۔ ان میں سے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کر کے بولا “یہ تو سُست ہے ۔ میں کتنی دیر سے کہہ رہا ہوں کہ میرے اُوپر ایک بیر پڑا ہے اُٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو مگر نہیں ڈالا”۔ دوسرا بولا “اس کی نہ سُنو ۔ یہ تو اتنا سُست ہے کہ کُتا پندرہ منٹ میرا منہ چاٹتا رہا اور اس نے اُسے ہٹایا نہیں”
ٹھیک لکھا ہے بالکل
میں تو جانتا بھی ہوں
چند ایسے لوگوں کو۔۔۔
جن کی تنخواہ واقعی گھر پہنچادی جاتی تھی۔۔۔۔
ابا میرے سرکاری نوکری کے حق میں تھےاور میں تھا کہ اس سے دور بھاگتا تھا
اب وہ سمجتے ہیں کہ میں نے ٹھیک کیا
اور مجھے لگتا ہے کہ غلط کیا