نشہ
سیانے کہتے ہیں نشہ بہت بری چیز ہے. اس ظالم نے بہت گھر برباد کیے ہیں. طالب علموں کے ہاتھ سے کتابیں چھین کے سرنج پکڑا دی.
کاریگروں کے ہاتھوں سے اوزار چھینے
عزت دار سے عزتِ نفس…
اب نشے کی بھی اقسام ہیں
سگریٹ کا نشہ.
سگریٹ کسی بھی قسم کے نشے کے لئے واسطے کے طور پر استعمال ہوتی ہے.
چرس کا نشہ، ہیروئین، مارفین، شراب، افیون، صمد بونڈ، پٹرول وغیرہ وغیرہ.
پر ہمارے “لاڈلے” دوست کا بقول نشہ واقعی ہی بہت بری چیز ہے. چاہے یہ نشہ بکرے کا گوشت کھانے کا ہو یا پھر آم کھانے کا. اب نشہ لوازمات کے ساتھ ہی ہونا چاہیے. بالٹی بھر آم، کچی لسی، اور بکرے کا گوشت کھانے پر جو خمار چڑھتا ہے وہ پورا دن سونے پر بھی نہیں اترتا.
بجا فرمایا
نشہ بہت بری چیز ہے …..

یہ آئیڈیا ہمارے ایک مشترکہ دوست بصرالاسلام کی گفتگو سے اخذ کیا گیا ہے. کچھ دنوں پہلے لفنگا میرے گھر آیا تو بجلی ندارد تھی. ہم نے سوچا چلو بصر کی طرف چلتے ہیں. شاید وہاں بجلی کی نعمت دستیاب ہو مگر نعمتیں اور کافروں کے دورِحکومت میں…
ہم بصر کے گھر کے باہر تھڑے پر بیٹھ گئے، ہمارے ساتھ اور بھی لوگ مثلاً میاں اظہر اور بھٹی صاحب بھی بیٹھ گئے. ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں. بات سے بات نکلتی گئی اور پہنچی نشہ تک..
اب بصر صاحب بہت بڑے مزاح نگار کا درجہ رکھتے ہیں اور ہر بات سے مزاح کا کوئی نہ کوئی پہلو نکال ہی لیتے ہیں. اس کے بعد کی گفتگو آپ مندرجہ بالا تحریر کے آخری پیرا گراف میں ملاحطہ فرما سکتے ہیں.
ہا ہا ہا
بڑی دور کی کوڑی لائے ہو جی
مجھے تو بلاگنگ اور انٹرنیٹ کا نشہ رہتا ہے
آم کا نشہ تو سر چڑھ کر بولتا ہے
کیا زبردست طنز ہے۔۔۔
واہ