یہ عظمت باطل دھوکہ ہے
یہ ثروت کافر کچھ بھی نہیں
مٹی کے کھلونے ہیں سارے
یہ کفر کے لشکر کچھ بھی نہیں
اللہ سے ڈرنے والوں کو
باطل سے ڈرانا مشکل ہے
گر
خوف خدا ہو دل میں
کسریٰ و قیصر کچھ بھی نہیں
دستور بھی ہے
تنظیم بھی ہے
تہذیب بھی ہے
تعلیم بھی ہے
قرآن میں پنہاں سب کچھ ہے
قرآن سے باہر کچھ بھی نہیں
اسلام اگر منظور نہیں
قرآن اگردستور نہیں
پھر خاک ایسی آزادی پر
یہ ملک‘ یہ لشکر کچھ بھی نہیں۔۔۔

بہت خوب جناب۔ یقین مانیں ایک ایک مصرع سیدھا دل پر اثر کرتا ہے۔
اللہ کرے کہ یہ اثر دیر پا ہو۔۔۔
اور کارگر بھی۔۔
جزاک اللہ بہت خوب جناب بہت پسند ائی یہ نظم بہت شکریہ یہاں پوسٹ کرنے کےلیے
پڑہنے کا شکریہ
بہت خوب جناب
یار یا تو اپنا نام بدلے لے
یا شاعری بھی لفنگوں جیسی کر
بہت ہی اعلی
زبردست۔۔۔
بہت خوب جناب
ماشاء اللہ بہت اچھا لکھا ہے۔
ماشااللہ خوب ترقی ہو رہی ہے بھاءی بہت اچھے
شکریہ!
کس کی ترقی؟