لفنگے کی ڈائری

لاعلمی

Posted in Poetry, شاعری by لفنگا on October 14, 2009

ستارے بانٹتا ہے وہ ضیاع تقسیم کرتا ہے

سُنا ہے حبسِ موسم میں ہوا تقسیم کرتا ہے

اُسکی اپنی بیٹی کی ہتھیلی خشک رہتی ہے

جو بوڑھا دھوپ میں اکثر حِنا تقسیم کرتا ہے

کوئی روکے اُسے جا کرسراسر ہے یہ پاگل پن

جو بہروں کے مُحلے میں صدا تقسیم کرتا ہے

اُسی سے مانگ تُو ساقی باقی چھوڑ دے سب کو

جو پتھر میں بھی کیڑے کو غذا تقسیم کرتا ہے

3 Responses

Subscribe to comments with RSS.

  1. Jafar said, on October 14, 2009 at 10:55 am

    بہت خوب۔۔۔
    بہت اعلی

  2. فرحان دانش said, on October 14, 2009 at 1:27 pm

    Good

  3. خرم said, on October 14, 2009 at 9:01 pm

    بہت خوب بالخصوص آخری شعر تو بہت اچھا ہے۔


Leave a Reply