مطالعہ پاکستان کی کتاب میں نویں جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک دو قومی نطریہ کے
تناظر میں ہندو مسلم تفریق کی وضاحت کے چکروں میں ڈال کر مصنفین نے بارہا ہمیں یہ باور
کروانے کی کوشش کی کہ ہندو معاشرتی نظام ہم سے کم تر ہے۔ ہم تو ’’ ایک ہی صف میں کھڑے
ہو گئے محمودوایاز‘‘ کا عملی نمونہ ہیں پر وہ ،چھی چھی! ذات پات کے قائل۔
براہمن تو عزت و تکریم کے حقدار جبکہ شودر غلاظت سے بھرمار۔ شودر کسی کے ساتھ کھانے
میں شریک ہونے کے لائق نہیں۔ اونچی ذاتوں کی باتیں تک سُننے کے مجاز نہیں۔
ملکِ خدا داد (اسلامی جمہوریہ) پاکستان کے درجہ چہارم کے ملازمین، خاکروب، خوانچہ
فروش عرف چھابڑی والے، غریب غربا کے کیا حالات ہیں؟ ماسوائے چنگڑ، نیچ، گھٹیا اور گندے کہلوانے کے؟
بے نظیر سکیمیں، سبسڈائیزڈ اشیاء اور امدادیں ان کے نام کی، ہاتھ اُن پر کون صاف کرتا۔۔
2 روپے کی روٹی کے نام پر آٹا بڑے بڑے پنج ستارہ ہوٹلوں کو دے کر وہی روٹی ہزاروں روپے
میں واپس خود ہی کھا جاتے، غریب کا بچہ روٹی کی جنگ میں اپنی ہی بہن کے سر میں ڈنڈا دے
مارتا۔۔۔
یا پھر باپ اپنی ہی اولاد کو بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر قتل کر دیتا۔۔۔۔
نعرے روٹی،کپڑا اور مکان کے۔۔۔ پر کس کے لئے؟؟؟
ملک کی آبادی کا 70 فیصد دیہاتی پر سہولتیں شہروں میں میسر۔۔۔۔
شہری عزت و تکریم کے قابل اور ماڈرن جبکہ دیہاتی بے عزتی کے لائق اور پینڈو۔۔۔۔
بہت خوب بہت خوب ۔ملک جی۔غصے میں لگتے ہیں۔
غصہ بجا ہے بھئی
باقی سب درست ہے صرف مندجہ ذيل فقرے کی تصديق بازار کا چکر لگا کر کر ليجئے ۔ حرام خوری ہمارے ہموطنوں کی اکثريت کی عادت بن چکی ہے اسلئے آٹا بيچ ميں سے اُراتے ضرور ہوں گے مگر فائيو سٹار ہوٹلوں ميں نہيں جاتا ۔ ميں لاہور نيو اقبال پاک ميں رہتا ہوں اور تنور سے 2 روپے والی روٹی لے کر آتا ہوں وجہ يہ ہے کہ دوسرے تنور پر ساڑھے تين روپے کی جو ملتی ہے وہ کھائی نہيں جاتی اور اس تنور پر جو 5 روپے کی ملتی ہے وہ ميدے کی ہوتی ہے ۔ نيو اقبال پارک کے ساتھ ہی ڈی ايچ اے ہے وہاں يہی 2 روپے والی روٹی ساڑھے تين روپے کی ملتی ہے
2 روپے کی روٹی کے نام پر آٹا بڑے بڑے پنج ستارہ ہوٹلوں کو دے کر وہی روٹی ہزاروں روپے
گلاں تے ساریاں ٹھیک بلکہ سو پرسنٹ ٹھیک نیں
پر فیدہ کیہہ؟؟؟
بالکل ٹھیک فرمایا حضرت نے۔۔۔ اور جس وجہ سے فرمایا وہ بھی صد فیصد بجا ہے، اگر میں درست سمجھا ہوں تو۔۔!
کل سے کچھ ایسے ہی خیالات تھے ذہن میں۔۔۔۔۔
ہندووں میں تقسیم کی بنیاد ان کی مذہبی ذاتیں ہیں جو پیدا ہونے سے لے کر مرتے دم تک تبدیل نہیں ہوسکتیں۔ جب کہ ہمارے ملک میں موجود تقسیم کی جو بات آپ نے کی وہ درست ہوتے ہوئے بھی مذہب کی بنیاد پر نہیں۔ یہ ظاہری امارت اور دولت کی کشادگی پر مبنی تقسیم ہے جو ختم کرنا چاہیں تو ختم ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہاں کوئی ایسا چاہتا ہے نا کرسکتا ہے۔
بھائی جی جسکے پاس ڈانگ ہو گی، مجھ بھی اسی کی ہو گی نا۔۔۔
Buhat achi tehreer hai
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
بات توسچ ہےلیکن بات ہےرسوائي کی
لیکن اس کوہمارامذہب تحفظ نہیں دیتاجبکہ ہندومذہب میں ان کادھرم ہی یہ ہے
والسلام
جاویداقبال
جناب! ہندووں میں ذات پات مزہب کا حصہ ہے ہمارے پاس معاشرتی اقدار کا حصہ ہے- ان میں اور ہم میں گویا کچھ خاص فرق نہیں یے- وہ شودھر کو دھتکارتے ہیں ہم کمی کمین کو لاتیں مارتے ہیں-
ہندو مذہب کیا ہے؟ کیا اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے یا ہنوؤں نے؟ کوئی بھی روشن خیال ہندو یہ نہیں مناتا کہ ذات پات ہندو مذہب کا بنیادی جذوہے۔ ہمارے ہاں، یعنی مسلمانوں میں کتنے لوگ آج بھی اپنی ذات پر عمر بھر کاربند رہنے کے قاائل ہیں؟ تو کیا آپ، مسلمان، اسے اسلام کا لازمی جزو مانتے ہیں۔
خدا کے لئے عقل کے ناخن لیں۔ ہنووؤں اور ہندوستان کا پیچھا چھوڑ کر پاکستان کی اور اسلام کی اور اپنے مسلمان
ہونے کی فکر کیجئے۔اپنی درسی کتوبوں کو درست کیجئے اور ان میں سے ہندو دشمنی ۰یا کسی بھی دوسرے مذیب سے دشمنی) چھوڑ کر اپنی اور اپنے اسلام اور اپنے پاکستان کی فکر کریں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پینڈو ہوں یا شہروں کے “اچھوت” ، احساس کمتری سے باہر نکلیں اور خود کو انسان سمجھیں اور چیزوں اور لوگوں سے مرعوب ہو کر جسم میں پیدا ہونے والے رعشے سے جان چھڑائیں ۔
نئیں تے فیر موجاں کرن !
میرے تو تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے جب کسی کو فرعون بنے یا کمی کمین بنے دیکھوں ۔ یہ آگ نہیں لگتی تو ان دونوں کو ۔ ۔ ۔
وسلام
بہت خوب…
اچھا نقطہ ہے
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج پہلی مرتبہ آپکے بلاگ کا چکر لگایا ہے۔ نجانے پہلے کہاں چھُپا ہوا تھا آپکا بلا مجھ سے یا پھر میں آپکے بلاگ سے۔
خیر تحریر مختصر پُراثر ہے۔ اسد بھیا کی بات بجا ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ تقسیم دولت وغیرہ پر مبنی ہے جو ختم بھی ہو سکتی ہے۔
میں نے چاہا اس عید پر
اک ایسا تحفہ تیری نظر کروں
اک ایسی دعا تیرے لئے مانگوں
جو آج تک کسی نے کسی کے لئے نہ مانگی ہو
جس دعا کو سوچ کر ہی
دل خوشی سے بھر جائے
جسے تو کبھی بھولا نہ سکے
کہ کسی اپنے نےیہ دعا کی تھی
کہ آنے والے دنوں میں
غم تیری زندگی میں کبھی نہ آئے
تیرا دامن خوشیوں سے
ہمیشہ بھرا رہے
پر چیز مانگنے سے پہلے
تیری جھولی میں ہو
ہر دل میں تیرے لیے پیار ہو
ہر آنکھ میں تیرے لیے احترام ہو
ہر کوئی بانہیں پھیلائے تجھے
اپنے پاس بلاتا ہو
ہر کوئی تجھے اپنانا چاہتا ہو
تیری عید واقعی عید ہوجائے
کیوں کہ کسی اپنے کی دعا تمہارے ساتھ ہے