لفنگے کی ڈائری

آوارہ ' بھٹکے خیا لا ت۔۔۔۔۔۔

رونقیں October 10, 2009

Filed under: Poetry, بقلم خود, شاعری, فضولیات — لفنگا @ 12:50 am
Tags: , , ,

بین کرتی عورتیں

رونقیں ہیں

….موت کی

 

!سوچئے September 30, 2009

Filed under: Pakistan, Poetry, بقلم خود, شاعری — لفنگا @ 1:53 am

یہ عظمت باطل دھوکہ ہے
یہ ثروت  کافر کچھ بھی نہیں
مٹی کے کھلونے ہیں سارے
یہ کفر کے لشکر کچھ بھی نہیں
اللہ سے ڈرنے والوں کو
باطل سے ڈرانا مشکل ہے
گر
خوف خدا ہو دل میں
کسریٰ و قیصر کچھ بھی نہیں
دستور بھی ہے
تنظیم بھی ہے
تہذیب بھی ہے
تعلیم بھی ہے
قرآن میں پنہاں سب کچھ ہے
قرآن سے باہر کچھ بھی نہیں
اسلام اگر منظور نہیں
قرآن اگردستور نہیں
پھر خاک ایسی آزادی پر
یہ ملک‘ یہ لشکر کچھ بھی نہیں۔۔۔

 

نالائق بھانڈا ، رونی بھیڑ August 19, 2009

Filed under: بقلم خود, فضولیات, ہفتہ بلاگستان — لفنگا @ 4:12 am

کافی سوچ بچار کے بعد بھی کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا لکھوں۔ تعلیم کا نام آتے ہی دماغ کی بتی بجھ گئی۔ لوڈ شیڈنگ کے حامل ملک کا باسی ہوںنا۔۔۔
میں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے گھر پر ہی حاصل کی۔ اردو سائینٹفک قاعدہ میری پہلے کتاب تھی۔ اس کے علاوہ ایک سلیٹ اور سلیٹی بھی میرے اوزار تعلیم میں شامل تھے۔ سلیٹ پر لکھتا کم  تھا کارٹون زیادہ بناتا تھا۔ کارٹون بھی ایسے کہ میرے ہزار ہا کہنے کے باوجود بھی کوئی ماننے کو تیار نہ ہو تا کہ یہ ا اونٹ، ب بکری اور پ پنکھا بنایا ہے میں نے۔۔۔۔
والد صاحب گھر ایک مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ پہلی بار ان کی خواہش پر جماعت دوم میں سکول کی شکل دیکھی۔ وہ ایک گاؤں کا مڈل سکول تھا۔ جہاں ہیڈ ماسٹر کا فرزند ہونے کے باعث  مجھے خصوصی توجہ دی جاتی۔ اس خصوصی توجہ کا مجھے یہ فائدہ ہوا کہ مجھے سزا کا ڈر نہ ہوتا اور نہ ہی سبق یاد کرنے کی ضرورت۔
کلاس روم شیشم کے درختوں تلے تھا اور سیٹیں ٹاٹوں کی جو طلباء گھروں سے لاتے تھے۔ جماعت دوم میں میری مہارت صرف اردو پڑہنا لکھنا تھی۔ گنتی یعنی حساب کے چند الفاظ سے ہم جماعتوں کی زبانی شناسائی تھی کہ ایک دونی دونن، دو دونی چار کے الفاظ سنے سنے لگا کرتے تھے۔ ناواقف نہیں تھا۔
والد صاحب کے تبادلہ نے میری تعلیم اس آرام دہ اور پر کشش سکول سے میرا ناتا توڑ دیا۔ اور مجھے اپنے ہی شہر کے ایک پرائمری سکول کا طالب علم بنا دیا گیا جہاں نہ تو والد صاحب کا اثرو رسوخ تھا نہ میں لاڈلا۔ وہاں پہلے پہل تو مجھے نالائق بھانڈا کا خطاب ملا بعد ازاں سبق سنانے کی بجائے رونے کی پاداش میں رونی بھیڑ کا خطاب۔
ان ناگہانی وجوہات کی بنا پر میں سکول سے متنفر ہو گیا اور اماں کی سفارش پر مجھے والد صاحب نے دوسرے سکول میں تیسری جماعت میں داخل کروادیا اگرچہ اب بھی ذہن پر زور دینے سے بھی  یاد نہیں آتا کہ کیا میں نے کبھی دوسرے جماعت کا امتحان بھی دیا تھا کہ نہیں۔۔۔
نئے سکول میں نیا ہنر سیکھا۔ ایک دن ایک ہم جماعت نے اپنا بستی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ اور مجھے بھی ایسا کرنے کا مشورہ دیا اور مجھے یہ کام دلچسپ لگا۔ پھر اس نے مجھے کہا کہ استاد صاحب سے پانی کی اجزت مانگ کر باہر جاؤ اور میرا انتطار کرو۔ کچھ دیر بعد وہ دوست بھی باہر آ گیا۔ پھر سارا دن بازاروں کی سیر کی اور چھٹی کے وقت تک گھر۔ کچھ دن یہ سلسلہ چلا پر بازاروں میں پھرنا مجھے اچھا نہ لگتا۔ پر بستہ باہر کھڑکی سے سڑک پر پھینکنا اچھا مشغلہ تھا۔ جب ایک ہفتہ تک گھر جلدی آنے لگا تو وجہ پوچھنے پر بتایا کہ سکول میں دل نہیں لگتا۔ اس جواب پر جو درگت بنی آج تک ٹیسیں اٹھتی ہیں۔
اس بار والد صاحب نے ایک غیر سرکاری سکول میں داخل کروایا جہاں ون ٹو ٹین نامی کوئی چیز پڑہائی جاتی تھی۔ پہلے دن جب مس نی ون ٹ ٹین لکھنے کو کہا مجھے کیا پتا کس بلا کا نام ہے۔ لیکن میں نے اپنے ساتھ والی کرسے پر بیٹھی ایک لڑکی کی نقل کر کے کچھ آڑہ ترچھی لکیریں کھینچی پر عزت کہاں راس نقل کرتا پکڑا گیا اور چٹاخ سے شند طمانچے گالوں پر رسید ہوئے اور یہ الفاظ دل پر رقم ہو گئے کہ   شرم نہیں آتی لڑکی کی نقل کرتے۔ بس دن بدلے پڑہنے کا ایسا شوق جا گا کہ تب سے اب تک پڑہے چلا جا رہا ہوں۔ لوگ کہتے تھے کہ سولہ جماعتیں ہوتی ہیں۔ پر میں تو آٹھارویں مین پہنچ چکا پر وہ سلسلہ رکنے کو نہیں۔
وہ بہن جسکی نقل کر کے ون ٹو ٹین لکھنا چاہا تھا ڈاکٹر بن چکی اور ہم بھی مقابلے کیں بیس جماعتیں پڑہ کر ڈاکٹر کہلوانے کا زوق شوق پالے پھرتے ہیں۔ دیکھو جماعتیں ختم ہوں گے کہ زندگی۔۔۔

 

پہلا دن : یوم بچپن ۔ ۔ ۔ August 18, 2009

میرے بچپن کے دن- ہفتہ بلاگستان
میری جائے پیدائیش ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ہے پر آپ مجھے بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ کہنے سے گریز کر سکتے ہیں کیونکہ میرے بڑے بھائی کے اسرار پر کہ یہاں گاؤں مین رہتے ہو ئے تعلیمی سہولیات کا فقدان رہے گا۔ چنانچہ میں تین سال کا تھا تو ہمارا خاندان ضلع جھنگ ہجرت کر گیا۔ باعث آنکہ میرا بچپن محلہ بھبڑانہ، ضلع جھنگ میں گزرا۔
کیا شاندار بچپن تھا۔ جب ہوش سنبھالا اور دل دوستیوں کے قابل ہوا تو عمران ساجد ( مانی) اور عتیق کو اپنے دوستوں کے روپ میں پایا۔
عیتق کے والد صاحب سخت طبیعت کے مالک تھے چنانچہ  عتیق کا ہمارے ساتھ وقت گزارنا بہت محدود تھا کیونکہ اس کے گھر سے غائب ہوتے ہی اس کے بڑے بھائی اسکی تلاش شروع کر دیتے تھے اور جلد اس میں کامیاب بھی ہو جاتے تھے۔
تو میری بچپن کی یادوں میں زیادہ حصہ مانی کا ہی ہے۔ ہم دونوں سورج اگنے سے لے کر شام ڈھلنے تک گھر سے غائب رہتے تھے اور یہ وقت ادھر ادھر آوارا گردی  میں ہے صرف کیا جاتا تھا۔
کبھی باغبانی کا شوق ہو جاتا تو محلے میں لوگ جہاں اپنے گھروں کا کو ڑا پھینکتے تھے اس ڈھیر میں  پھلوں کی گٹھلیوں سے چیند دن بعد ایک ننھا سا پودا نکل آتا جس پر ہمیں بہت پیار اور ترس آتا کہ بے چارا اکیلا گند میں پھلے پھولے گا تو اچھا آدمی نا بن سکے گا چنانچہ اسے ویاں سے اکھاڑ کر گھر لے آتے۔ گھر میں لان کی سہولت تو دستیاب نہ تھی تو اپنے باغبانی کے شوق کی آبیاری کے لیے صحن سے چند اینٹیں اکھاڑ دی جاتی۔ پھر اس میں سے ایک فٹ تک ریت اور مٹی نکال دی جاتی۔ بالٹی اٹھاتے اور قریبی کھیت سے مٹی بھر کر لائی جاتی اور اپنے اس دو مربع فٹ کے باغ میں زرخیز مٹی دال دی جاتی۔ اور اس پودے کو وہاں گھر کے صحن میں اچھا ماحول دے کر پانی دے کر کسی نئی مہم پر نکل جاتے۔ گھر واپسی پر امی سے صلواتیں سنتے کہ سارے فرش کا ستیا ناس کر دیا اور دیکھنے پر پودا تو کیا باغ بھی ندارد۔ ۔۔۔۔
گرمی کی دوپہر میں ہم لوگوں کے فرار کے ڈر سے گھر کے داخلی اور خارجی تمام راستے مسدود کر دیے جاتے لیکن ہم دوستوں کو کون جدا کر سکتا تھا۔ ہم براستہ کھڑکی یا چھت کے راست گھر سے مفرور ہونے میں کامیاب ہو ہی جایا کرتے چاہے گھر میں داخلہ آنسو بہا کر ہی ملا کرتا تھا یا باجی کو ہم پر رحم آ جایا کرتا تھا۔
گرمیں کی دوپہر میں نیکر پہنے ننگے پاؤں کڑی دھوپ ( یہ تو اب احساس ہوتا ہے وگرنہ تب تو گرمی کا آحساس تک نہ تھا )میں آوارہ گردی کرتے ۔ گھر کے قریب کھیت تھے اور ٹیوب ویل تھا جہاں نہاتے رہتے تھے۔ پتنگ تو کبھی نہیں اڑائی ہر ڈور خود تیار کرتے تھے۔ شاید آپ میں سے کوئی جانتا ہو کے آجکل تو بازار سے پلاسٹک کی بنی بنائی ڈور ملتی ہے پر پہلے لوگے خود ڈور تیار کرتے تھے۔ پھول مارکہ دھاگا، سریش، کچ۔ یہ اجزا تھے اس ڈش کے۔۔۔۔
ہماری تیار کردہ ڈور ہم سے بڑے کزن چھین لیا کرتے جس کا بدلہ اسی ڈور کو دانتوں سے جگہ جگہ ٹک لگا کر لیا جاتا۔
بچپن کا ایک یادگار واقعہ یہ ہے کہ اک بار مانی میرے پاس آیا کہ یہ دیکھو 100 روپیہ۔ یہ بات شاید 1992 کی ہے جب میں آٹھ سال کا تھا۔ یہ بہت بڑے رقم تھی۔ تب گھر سے دو روپے ملا کرتے تھے روزانہ۔ تو جناب ہم نے اپنی مہم کا آغاز کیا اور بازار سے جلیبیاں کھائی۔ گلی ڈنڈا بنوایا۔ لٹو بنوایا، سٹکر خریدے۔ پلاسٹک کا ٹریکٹر ٹرالی خریدی۔ پر ہم معصوم کیا جانتے تھے کہ گلی ڈنٹا جو ہم لے کر گھر پہنچے تو واپسی پر ہمارے ساتھ کیا ہو نے والا ہے۔ گلی میں ہی مانے کی امی اور میری امی کی میٹنگ جاری تھی۔ ان کو دیکھتے ہی مانی گھبرا کر بھاگ گیا۔ میں بڑا حیران ہوا اس کی اس حرکت پر کہ اس نے تو کبھی ساتھ نہ چھوڑا تھا آج کیا بنا۔ وہ تو جب اسے ڈنڈے سے مرمت ہوئی تو عیاں ہوا کہ مانہ وہ پیسے گھر سے چرا کر لایا تھا۔۔۔۔۔
ہم دونوں کے ساتھ پھرنے پر پابندی تھے لیکن ہم کہاں رکنے والے تھے۔
اس سب سے تعلیم کی باتیں اس لیے غائب نہیں کہ ہمارا سکول سے کو ئی واستہ نہ تھا۔ بلکہ تعلیمی باتیں اگلی پوسٹ میں

 

آزاد پاکستان August 14, 2009

Filed under: Pakistan, بقلم خود — لفنگا @ 6:48 pm

آج پاکستان کا یوم آزادی تھا۔ اور میری پچیسویں سالگرہ۔ مجھے تو سالگرہ مبارک اور آزادی مبارک کے ملے جلے پیغامات موصول ہوئے۔
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جس کی آبادی کا زیادہ تر حصہ نوجوانان پر مشتمل ہے۔
اور نو جوانان پاکستان کا جوش و خروش آپ سب نے سڑکوں پر اور ٹی وی پر دیکھ ہی لیا ہو گا۔
پاکستان اس وقت توانائی کے بحران کا شکار ہے۔ اعدادوشمار کی عدم دستیابی ہے لیکن آج معمول سے زیادہ پیٹرول خرچ ہوا ہو گا۔ اور یہ استعمال بے سود تھا۔ اس سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ بغیر سائلینسر کے مو ٹر سائکل چلانے سے پاکستان نے کتنی ترقی کر لی ہو گی؟
پر مجھے آج کا دن اس لئے اچھا لگا کہ آج سارا دن لوڈ شیڈنگ کی نعمت سے محروم رہا۔
اللہ پاکستان کو ایسے یوم آزادی روز روز دکھائے جس میں بجلی سارا سارا دن دستیاب رہے۔
اللہ پاکستان کو استحکام عطا فر مائے۔
اللہ پاکستان کو متحد رکھے۔
اللہ پاکستان کو اچھے حکمران نصیب فرمائے۔
اللہ پاکستان کے دشمنوں کو غارت کرے۔
اللہ پاکستان کوعالم اسلام کا حقیقی قلعہ بنائے۔
آمین

 

نشہ July 28, 2009

Filed under: بقلم خود, فضولیات — لفنگا @ 2:18 pm
Tags: , ,

سیانے کہتے ہیں نشہ بہت بری چیز ہے. اس ظالم نے بہت گھر برباد کیے ہیں. طالب علموں کے ہاتھ سے کتابیں چھین کے سرنج پکڑا دی.
کاریگروں کے ہاتھوں سے اوزار چھینے
عزت دار سے عزتِ نفس…
اب نشے کی بھی اقسام ہیں
سگریٹ کا نشہ.
سگریٹ کسی بھی قسم کے نشے کے لئے واسطے کے طور پر استعمال ہوتی ہے.
چرس کا نشہ، ہیروئین، مارفین، شراب، افیون، صمد بونڈ، پٹرول وغیرہ وغیرہ.
پر ہمارے “لاڈلے” دوست کا بقول نشہ واقعی ہی بہت بری چیز ہے. چاہے یہ نشہ بکرے کا گوشت کھانے کا ہو یا پھر آم کھانے کا. اب نشہ لوازمات کے ساتھ ہی ہونا چاہیے. بالٹی بھر آم، کچی لسی، اور بکرے کا گوشت کھانے پر جو خمار چڑھتا ہے وہ پورا دن سونے پر بھی نہیں اترتا.
بجا فرمایا
نشہ بہت بری چیز ہے …..

 

تاوان June 30, 2009

Filed under: بقلم خود, شاعری — لفنگا @ 3:20 pm

سنو لوگو!
میری آنکھیں خریدو گے؟
مجھے ایک خواب کا تاوان بھرنا ہے

 

میں June 23, 2009

Filed under: Poetry, بقلم خود, شاعری — لفنگا @ 6:51 pm

شام ، اداسی، خاموشی

کچھ کنکر، تالاب اور میں

ہر شب پکڑے جاتے ہیں

گہری نیند، کتاب اور میں

 

بے چارے May 27, 2009

معصوم لوگ ہیں. کسی کو بھی تو تنگ نہیں کرتے. بس جگہ جگہ تاریک کونوں پر، ویران سڑکوں پر دو چار کھڑے ہوتے ہیں. شکل پر لاچاری اور مکاری کا حسین امتزاج ملتا ہے.

اور اپنے محکمہ کے سلوگن ” ہمارا فرض آپ کی مدد اور خدمت” پر پکے کاربند.

ان کی نظر اور آواز کا دبدبہ ایسا کہ بڑے بڑے پھنے خان ان کے سامنے بکری. اور ہمارے ملک میں تو شیطان کے بعد اگر کسی سے ڈر لگتا ہے اور خدا سے پناہ مانگو تو ہو یہ حضرات ہی ہیں.

ملک الموت کے حصے کے کام بھی اپنے ذمہ کر رکھے ہیں.

آپ کو روکیں گے. پہلا سوال ہو گاکہ کہاں سے آ رہے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں. اگر آپ بائیک پر سوار ہوں گے تو کہیں گے. گڈی دے کاغذ وکھاؤ.

کاغذ دکھا دیں تو لائیسنس مانگیں گے. اگر        وہ بھی نا  دکھا سکیں تو کچھ نہ کچھ مانگتے مانگتے اپنی آئی پر آ جائیں گے. پر اپنی پر آنے پر بھی کاغذ ہی طلب کرتے ہیں . پر کاغذ کے رنگ اور اس پر بنی بابائے قوم کی تصویر کا حوالہ دینے پر یا پھر کسی بڑے افسر کا حوالہ دینے پر ہی جان بخشی ہو گے…

اصول کے بڑے پکے ہیں.

جان تو آپ سب ہی گئے ہوں گے. اب نام لکھتے مجھے خوف آتا ہے.

مولانا فضل اللہ کے بارے سنا تھا کہ ٹرک چلایا کرتے تھے. اب جب ٹرک نے خیبر سے کراچی جانا ہو تو سر راہ عوام کے ان خادموں سے بھی ناکوں پر ملاقات ہوتی ہی رہی ہوگی.

کہتے ہیں کہ پٹواری صاحب کسی گاؤں جا رہے تھے بغل میں رجسٹر دبائے اور راستے میں سامنا ہو گیا ایک کتے سے. کتا پٹواری صاحب کو جانے نہ دے اور ان کو کاٹنے کو دوڑے. پٹواری صاحب تھک ہار کر بولے ” جے! تیرے ناں ایک مرلہ جگہ بھی ہوتی تو تمہیں بتاتا کہ پٹواری کس بلا کا نام ہے.”

تو جناب اب دور ہے طالبان کا اور کمان کر رہے ہیں بیت اللہ محسود صاحب. پرانے بدلہ نہ  چکانے سے تو پاکستانی فلم مکمل نہیں ہوتی یہ تو حقیقت ہے.

بیچارے پنجاب پولیس والے تو ان دھماکوں کے زیرِعتاب ہی آ گئے ہیں. کبھی مناواں، کبھی لبرٹی تو آج ریسکیو  والے. آج کے واقعے میں جانبحق ہونے والوں کی اللہ مغفرت فرمائے اور ملک میں امن و سکون قائم کرے.

 

ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے May 25, 2009

Filed under: بقلم خود, فضولیات — لفنگا @ 10:19 pm

گدھ مردار خور ہے۔ خود شکار کر کے نہیں کھاتا۔ لیکن وہ درخت پر یا کیسے بلند جگہ پر بیٹھا انتظار کرے گا تاآنکہ جانور میں آخری سانسیں بھی دم توڑ جائیں
سرد علاقوں مین خوراک کی کمی ہو جاتی ہے تو وہاں رہنے والے برفانی بھیڑئے ایک دائرے کی شکل مین بیٹھ جاتے ہیں اور جاگتے ہیں۔ جاگنا ہی ان کے لئے زندگی کی امید ہے کیونکہ جو سو جائے باقی بھیڑئے اسے نوالہ بنا لیتے ہیں۔
یہ خونی جانور چاہے حرام خور ہوں یا خود سے شکار کر کے کھانے کے عادی ہوں۔ انتہائی مجبوری میں بھی کسی نہ کسی قائدے اور قانون کے پابند ہیں۔
اپنے بھائی کا گوشت کھانا بھی پڑے تو انتہائی مجبوری میں۔ پ پھر بھی کسی معاہدے کے تحتپر ہم انسان۔۔
افسوس ہے ہم پر کہ کہنے کو تو بات بات پر اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا دعوی کرتے پھرتے ہیں پر ہمارا عمل کیا ہے؟
پیٹ اور تجوریاں بھری ہوں گے پر اور لانے کے لیے چوری چکاری، دھوکہ فراڈ اور قتل و غارت گری تو معمولی بات ہے۔
زخیرہ اندوزی کرتے ہیں تا کہ بھوک اور طلب بڑہے اور پھر من مانے نرخ حاصل کریں۔
دکھاتے اور تولتے اچھا مال ہیں پرلفافے میں بند کر کے گھٹیا اور ناقص مال دیتے ہیں۔
یہ سب خصوصیات کسی اور قوم کی نہیں ہیں اپنی پاکستانی قوم کی ہیں۔ ایک تو ہم مسلمان اور اوپر سے سونے پر سہاگہ پاکستانی۔
کہتے ہیں کہ دوزخ میں مختلف  آگ کے گڑھوں پر فرشتے تعین تھے جو وہاں موجود قیدیوں کو باہر نکلنے نہ دیتے تھے۔ ایک گڑھے پر کوئے پہریدار تعینات نہ تھا۔ اور نہ ہی وہاں سے کوئے نکل کر بھاگ رہا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہو کہ اس میں پاکستانی بند ہیں۔ اگر کوئی باہر نکلے تو باقی اس کی ٹانگ کھینچ لیتے ہیں۔
واہ