لفنگے کی ڈائری

آوارہ ' بھٹکے خیا لا ت۔۔۔۔۔۔

تمہید November 10, 2009

Filed under: Poetry, شاعری — لفنگا @ 4:00 am

ریل  کی سیٹی میں کیسی درد کی تمہید تھی

تم  کو   رخصت   کر  کے   لوٹا   تو   یاد   آیا

 

 

لاعلمی October 14, 2009

Filed under: Poetry, شاعری — لفنگا @ 6:40 am

ستارے بانٹتا ہے وہ ضیاع تقسیم کرتا ہے

سُنا ہے حبسِ موسم میں ہوا تقسیم کرتا ہے

اُسکی اپنی بیٹی کی ہتھیلی خشک رہتی ہے

جو بوڑھا دھوپ میں اکثر حِنا تقسیم کرتا ہے

کوئی روکے اُسے جا کرسراسر ہے یہ پاگل پن

جو بہروں کے مُحلے میں صدا تقسیم کرتا ہے

اُسی سے مانگ تُو ساقی باقی چھوڑ دے سب کو

جو پتھر میں بھی کیڑے کو غذا تقسیم کرتا ہے

 

رونقیں October 10, 2009

Filed under: Poetry, بقلم خود, شاعری, فضولیات — لفنگا @ 12:50 am
Tags: , , ,

بین کرتی عورتیں

رونقیں ہیں

….موت کی

 

!سوچئے September 30, 2009

Filed under: Pakistan, Poetry, بقلم خود, شاعری — لفنگا @ 1:53 am

یہ عظمت باطل دھوکہ ہے
یہ ثروت  کافر کچھ بھی نہیں
مٹی کے کھلونے ہیں سارے
یہ کفر کے لشکر کچھ بھی نہیں
اللہ سے ڈرنے والوں کو
باطل سے ڈرانا مشکل ہے
گر
خوف خدا ہو دل میں
کسریٰ و قیصر کچھ بھی نہیں
دستور بھی ہے
تنظیم بھی ہے
تہذیب بھی ہے
تعلیم بھی ہے
قرآن میں پنہاں سب کچھ ہے
قرآن سے باہر کچھ بھی نہیں
اسلام اگر منظور نہیں
قرآن اگردستور نہیں
پھر خاک ایسی آزادی پر
یہ ملک‘ یہ لشکر کچھ بھی نہیں۔۔۔

 

خدشہ September 11, 2009

Filed under: Poetry, شاعری — لفنگا @ 12:46 am

وہی ہوا نا‘ بچھڑنے پہ بات آ پہنچی

تجھے کہا تھا پُرانے حساب رہنے دے

 

تاوان June 30, 2009

Filed under: بقلم خود, شاعری — لفنگا @ 3:20 pm

سنو لوگو!
میری آنکھیں خریدو گے؟
مجھے ایک خواب کا تاوان بھرنا ہے

 

میں June 23, 2009

Filed under: Poetry, بقلم خود, شاعری — لفنگا @ 6:51 pm

شام ، اداسی، خاموشی

کچھ کنکر، تالاب اور میں

ہر شب پکڑے جاتے ہیں

گہری نیند، کتاب اور میں

 

احتیاط May 25, 2009

Filed under: Poetry, شاعری, فضولیات — لفنگا @ 4:30 pm

اب مجھے خط مت لکھنا احتیا طاً
میرے بیٹے کو پڑھنا آ گیا ہے

 

محبت April 13, 2009

Filed under: شاعری, فضولیات — لفنگا @ 8:24 pm

جب بیٹی چوکھٹ پر کھڑی ہو
اور عزت کا بیوپار کرے
جب باپ کی عزت کھو جائے
جب قوم کی غیرت سو جائے
جب بھائی کو طعنے ملتے ہوں
جب بہنوں کے دل جلتے ہوں
جب ماؤں کی نظریں جھک جائیں
جب سانسیں لبوں پہ رک جائیں
جب شرم و حیا  کا   آمیزہ
جب ایک کنواری دوشیزہ
جب بے شرمی کو اپنا لے
جب خود کو ذلت میں ڈھالے
جب غیر کے سینے لگ جائے
اور اپنا آپ گنوا آئے
تو ایسی حالت کو اے لوگو!
ہم لوگ محبت کہتے ہیں

 

چلو چھوڑو April 13, 2009

Filed under: شاعری — لفنگا @ 7:46 pm

چلو چھوڑو!
محبت جھوٹ ہے
عہدِ وفا اِک شغل ہے بیکار لوگوں کا
“ طلب“سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
“ خلش“ دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
“ خمارِ وصل“ تپتی دھوپ کے سینے پر اڑتے بادلوں کے رائیگاں بخشش
“غبار ِہجر“ صحرا میں سرابوں سے اَٹے موسم کا خمیازہ!!
چلو چھوڑو!
کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ
چاہت کی بنا رکھ کرسفر کرتا رہا ہوں گا
مجھے احساس ہی کب تھا
کہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے
رنگ بدلو گی!
چلو چھوڑو!
وہ سارے خواب کچی بُھربھُری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے
وہ سارے ذائقے میری زبان پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے
تمہاری انگلیوں کی نرم پور یں پتھروں پر نام لکھتی تھیں میرا‘ لیکن
تمھاری انگلیاں تو عادتاََ یہ جُرم کرتی تھیں۔۔۔!
چلو چھوڑو!
سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سر زد ہو کرتے ہیں
۔۔۔ صدیوں سے
چلو چھوڑو!
میرا ہونا نہ ہونا اِک برابر ہے
تم اپنے خال وخد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اِک نیا موسم اُترنے دو!
“ مرے خوابوں کو مرنے دو“
نئی تصویر دیکھو
پھر نیا مکتوب لکھو
پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو‘
مرے ماضی کی چاہت کو رائیگاں سمجھو
مری یادوں سے کچے رابطے توڑو
چلو چھوڑو۔۔۔!
محبت جھوٹ ہےعہدِوفااِک شغل ہے بیکار لوگوں کا
( محسن نقوی)