وکیلوں کی کامیاب تحریک کے بعد سے مجھ میں کچھ ابال سے اٹھتے رہتے ہیں کہ پاکستان کے کچھ اور نظام بھی انقلاب چاہتے ہیں.
میری خواہش رہتی ہے کہ اگر عدل عمر رض میسر ہونے کو ہے تو زکوٰۃ کا نظام بھی تحریکیں چلا کر نافز کرواوایا جائے. انشااللہ پھر ہمیں کسی ٹیکس کی ضرورت نہیں رہے گی. پر یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب موجودہ نام نہاد زکوٰۃ کے نظام کو اپنی اصل پر نافز کیا جائے-
اسلام کا تو یہاں کسی کو شوق باقی نہیں رہا. معیشت کی باتیں کرتے ہیں.
معیشت اس طرح ہی درست ہو سکتی ہے.
اقوام متحدہ کی نام نہاد غربت کی لکیر کا نام و نشان مٹ سکتا ہے.
انقلاب March 20, 2009
پیکستین بمقابلہ سسرائیل February 17, 2009
ہمارے معاشرہ میں شادی شدہ آدمی کی زندگی بہت کٹھن ہے۔ کہیں نا کہیں سے اس بیچارے کو دب کر رہنا ہی پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے جو مجھے رشتہ ازدواج میں قید ہونے سے روکتی ہے۔ کیوں کہ میں نے فلسطین اور اسرائیل جنگ کے حالات پڑہے ہیں۔لیکن مین پیکستین اور سسرائیل جنگ کی زد میں آنا نہین چاہتا۔ پطرس نے لیکھا تھا کہ مجھے میرے دوستوں سے بچائو اور میں نہیں لکھنا چاہتا کہ مجھے میری بیوی سے بچائو۔۔۔
چناب دھرتی October 15, 2008
سنا تم نے؟ بھارت نے جو مسئلہ 1948 میں کھڑا کیا تھا اس کو وہ پھر سے ہوا دے رہا ہے۔ ڈیم بنا رہا ہے بھارت بہت سے۔ کہتے ہیں چناب سے پانی روکے گا وہ۔ بجلی بنائے گا۔ نہریں کھودے گا۔ ہاں ہم تو معاہدے کرنے میں ماہر ہیں اور معاہدے بھی کیا اہمیت رکھتے ہیں جب ہمارم صدر محترم کہتے ہوں کہ معاہدے قرآن و حدیث تھو ڑی ہیں جو پورے کئے جا ئیں؟ تو بھارت کاہے کو سندھ طاس کی پاسداری کرے؟
لیکن اس سب سے تو چناب خشک ہو جائے گا۔ کہتے ہیں کہ دریا سوکھ جائیں تو زمینیں بنجر ہو جایا کرتی ہیں۔
آہ! میری چناب دھرتی۔ عبدالسلام کی دہرتی۔۔ ہیر رانجھا کی دہرتی۔۔ سوہنی مہینوال کی دہرتی۔۔۔۔۔
کیا آئیندہ یہاں فصلیں نا ہوا کریں گی؟
کیا عشق بھی نا کاشت ہو سکے گا؟
پر امجد اسلام امجد کا کہا سچ نہیں جو مجھے امید دلاتا ہے کہ
عشق ایسا دریا ہے کہ
بارش روٹھ بھی جائے
تو پنی کم نہیں ہوتا
واپسی January 24, 2008
بہت سے لوگ کچھ عجیب ہوتے ہیں۔ یہ آپ ذرا آردو سیارہ والوں کو ہی دیکھ لیں۔ میرا نام بلاگ سمیت ہی ختم کر ڈالا۔ وجہ پوچھوں گا تو کہیں گے کہ آپ لکھتے تو ہو نہیں کچھ تو آپ کو کیسے رکھ لیں ممبر ! جناب ایک بندہ ہے ہی لفنگا تو وہ ٹک کر کیسے بیٹھے ؟ سوچئے ذرا؟کل مجھے فٹبال کھیلنے کے شوق نے مروا دیا۔ صحت ہاکی جیسی ہے اور کھیلنے چلے تھے فٹبال۔ کک لگائی، گرا اور موچ آ گئی۔ مزے کی چیز ہے یہ موچ بھی۔ آپ اپنے سائز سے بڑا جوتا آسانی سے پہن سکتے ہیں۔ پائوں سوج جو جاتا ہے۔ اب کل سے گھر بیٹھا ہوں۔۔۔۔
Lafunga – لفنگا September 18, 2007
لفنگا کسے کہتے ہیں؟
یہ تفصیل سے لفنگا خود بھی جاننا چاہتا ہے اور کل تو ویسے بھی خاور کھوکھر صاحب کو بھی میری طرح اشتیا ق ہوا جس کا اظہار انہوں نے تبصرہ میں کیا۔
کوشش میں بھی کر رہا ہوں آپ سب قارئین سے بھی مدد کی درخواست ہے۔
فیروز سنز کی ڈکشنری تو کچھ اسطح کہتی ہے:
لفنگا: A vain-glorious fellow; a braggert; a loose character:
جہاں تک میرے زاتی تجربے کا سوال ہے تو اگر میں اپنی وہ حرکتیں دیکھوں جن کی بنا پر لفنگا قرار پاتا ہوں تو لفنگا ایک ایسے شخص کو کہ سکتے ہیں جو آپ کو اپنی گلی یا محلے کی نکڑ پر فضول کھڑا ملے۔ یا جو راہ چلتے لوگوں پر آوازے کستا ہو۔ اور بڑوں کی بات نہ مانتا ہو۔
یا پھر
“فسانہ آزاد کے ہیرو کو لیجئے جو اس معاشرت کا نمائندہ ہے۔مگر نہایت ہی گھٹیا قسم کا معمولی آوارہ نوجوان ہے۔ جس کی زندگی کا نہ کوئی معیار ہے اور نہ کوئی مقصد ۔ سرشار نے اپنے اس ہیرو کو یگانہ روزگار بنانے کی کوشش کی ہے مگر یہ اسی طرح کا بے ڈھنگا ، اوچھا اور لفنگا ہی رہا
“
تعارف – Introduction September 16, 2007
تو جناب ھم ہین لفنگے۔ یہ میں خود نہیں کہتا، بڑے کہتے ہیں۔ ہاں جی ! بڑے۔ بڑوں کا تو سب کو پتا ہی ہو گا کہ ان کو پیشین گوئیاں کرنے کی عادت یا شوق ہوتا ہے جس کی تصدیق ہم نہیں کر سکے کہ عادت ہے یا شوق۔۔۔
تو جناب لفنگے کو بلاگ ( ڈائری ( کی ضرورت کا ہے کو پیش آ گئی؟ کیوں ہم اپنے خیالات کا اظہار کیوں نہیں کر سکتے جب ابن انشا کھلم کھلا لمبی سی آوارہ گرد کی ڈائری لکھ سکتے ہیں تو ہم پر کوئی اعتراض کا ہے کو؟
ویسے بھی ھمارے صدر، جنابِ مشرف
معا فی چاہتا ہوں لفنگا جو ہوا، میں اب جناب جنرل پرویز مشرف صاحب لکھنے سے تو رہا
نے اظہار رائے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ اور لفنگے تو ویسے بھی کچھ نہیں بلکہ بھت منہ پھٹ ہوتے ہیں۔
اگر بد تمیز بلاگ لکھ سکتا ہے تو لفنگے کی قلم کون روکے؟ لفنگے کی زبان کون پکڑے، حالانکہ بیسیوں بار زبان گدی سے کھنچوانے کی دھمکی سن رکھی ہے بڑوں سے ہم نے۔۔۔۔۔۔۔
