لفنگے کی ڈائری

آوارہ ' بھٹکے خیا لا ت۔۔۔۔۔۔

!سوچئے September 30, 2009

Filed under: Pakistan, Poetry, بقلم خود, شاعری — لفنگا @ 1:53 am

یہ عظمت باطل دھوکہ ہے
یہ ثروت  کافر کچھ بھی نہیں
مٹی کے کھلونے ہیں سارے
یہ کفر کے لشکر کچھ بھی نہیں
اللہ سے ڈرنے والوں کو
باطل سے ڈرانا مشکل ہے
گر
خوف خدا ہو دل میں
کسریٰ و قیصر کچھ بھی نہیں
دستور بھی ہے
تنظیم بھی ہے
تہذیب بھی ہے
تعلیم بھی ہے
قرآن میں پنہاں سب کچھ ہے
قرآن سے باہر کچھ بھی نہیں
اسلام اگر منظور نہیں
قرآن اگردستور نہیں
پھر خاک ایسی آزادی پر
یہ ملک‘ یہ لشکر کچھ بھی نہیں۔۔۔

 

آزاد پاکستان August 14, 2009

Filed under: Pakistan, بقلم خود — لفنگا @ 6:48 pm

آج پاکستان کا یوم آزادی تھا۔ اور میری پچیسویں سالگرہ۔ مجھے تو سالگرہ مبارک اور آزادی مبارک کے ملے جلے پیغامات موصول ہوئے۔
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جس کی آبادی کا زیادہ تر حصہ نوجوانان پر مشتمل ہے۔
اور نو جوانان پاکستان کا جوش و خروش آپ سب نے سڑکوں پر اور ٹی وی پر دیکھ ہی لیا ہو گا۔
پاکستان اس وقت توانائی کے بحران کا شکار ہے۔ اعدادوشمار کی عدم دستیابی ہے لیکن آج معمول سے زیادہ پیٹرول خرچ ہوا ہو گا۔ اور یہ استعمال بے سود تھا۔ اس سے پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ بغیر سائلینسر کے مو ٹر سائکل چلانے سے پاکستان نے کتنی ترقی کر لی ہو گی؟
پر مجھے آج کا دن اس لئے اچھا لگا کہ آج سارا دن لوڈ شیڈنگ کی نعمت سے محروم رہا۔
اللہ پاکستان کو ایسے یوم آزادی روز روز دکھائے جس میں بجلی سارا سارا دن دستیاب رہے۔
اللہ پاکستان کو استحکام عطا فر مائے۔
اللہ پاکستان کو متحد رکھے۔
اللہ پاکستان کو اچھے حکمران نصیب فرمائے۔
اللہ پاکستان کے دشمنوں کو غارت کرے۔
اللہ پاکستان کوعالم اسلام کا حقیقی قلعہ بنائے۔
آمین

 

لاڈلا June 24, 2009

Filed under: Pakistan, فضولیات — لفنگا @ 2:05 pm

لاڈلا
ہمارے ملک میں لوگ سرکار کا نوکر بننے ( گورنمنٹ جاب) کے ہمیشہ سے شوقین رہے ہیں اور ان کی خو اہش اور دعا ہی رہتی ہے کہ ان کے ہاتھ سرکاری نوکری لگ ہی جائے.
چاہے اس کے لیے انہیں کوئی سفارش ڈھونڈنی پڑے یا رشوت دینی پڑے. رشوت کے پیسے تو پورے کر لینے کی امید پر ادا کیے جاتے ہیں کے دیے ہیں تو لے کر پورے کر ہی لئے جائیں گے.
تو جناب سرکاری نوکری کے اس قدر دیوانہ پن کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے بقول  کسی دور دراز پسماندہ علاقے میں نوکری ملے تو تنخواہ وصولی کے دن جائین اور پورے مہینے کی حاضری لگاؤ تنخواہ لو اور گھر…
پر ہمارے ایک عددد دوست جو باعث تحریر آنکہ ہیں وہ اس قدر لاڈلے نکلے کہ کہتے ہیں کہ سرکاری نوکری مل جائے تو کوئی ایسا بندہ ڈھونڈ لیں گے جو تنخواہ بھی گھر پہنچا جایا کرے گا …..

 

بلا عنوان February 23, 2009

ملت اسلامیہ کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں بعض انتہائی عبرتناک لمحات بھی شامل ہیں، اس قسم کے سانحات کی تکرار سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک یہ کہ قوموں کے عروجوزوال یا بلندی و پستی یا عزتوزلت کے بالے میں قرآن مجید میں جو قانون بیان فرمائے گئے ہیں وہ اٹل ہیں اور ان قوانین کے اطلاق میں قدرت یہود،نصارٰی یا مسلم قوم کے درمیان کوئی امتیاز روا نہیں رکھتی۔ قانون قدرت سب کے لئے یکساں ہے، دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قدرت ابھی تک مسلمانوں سے نا امیس نہیں ہوئی ہے۔

ہر بڑآ صدمہ، سقوط بغداد ہو یا سقوط اندلس یا سقوط ڈھاکہ، یا سقوط افغانستان یا عراق، ملت اسلامیہ کو جھنجھوڑنے اور خواب غفلت سے جگانے کے لئے رونما ہوتا رہا، اگر قدرت اس قوم سے مایوس ہو چکی ہوتی تو یہ جھٹکے بار بار نہ لگائے جاتے۔ عضو معطل کو بحال کرنے کیلئے برقی جھٹکے اسی اصول کے تحت لگائے جاتے ہیں، اگر عضو خراب اور ناکارہ ہو تو پھر کاٹنا ضروری ہوتا ہے، یقیناً جڑ کاتنے کی نوبت ابھی نہیں آئی ورنہ قرآن میں قوم عاد، قوم ثمود ، قوم جوح اور قوم لوط جیسی قوموں کا زکر ملتا ہے جن کی اصلاح پذیری سے مایوسی کے بعد قدرت کی ظرف سے ان قوموں کی جڑ ہی کاٹ دی گئی۔

تا ہم اس اطمینان کا کوئی پہلو نہیں کہ قدرت ابھی تک ہم سے نا امید نہیں ہوئی۔ ناامید نہ ہونا اور بات ہے اطمینان ہونا کچھ اور۔ تمام قرائن و شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ رب سمٰوات و عرض مسلمانوں سی ہرگز راضی نہیں۔ آج مسلمان دنیا میں ہر جگہ زلتوخواری میں مبتلا ہیں۔ کشمیر، بوسنیا، کوسووا، چیچنیا، عراق، افغانستان، ہندوستان، فلسطین، پاکستان غرض دنیا کے ہر گوشے میں مسلمانوں کا ہی خون بہہ رہا ہے۔باہمی فسادات، خانہ جنگی، برادر کشی ، غداری قدرت کی طرف سے تعز یر کی مختلف صورتیں ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ میں تمام بڑے سانحات و حادثات کے مخصوص اسباب تھے، تاہم بعض اسباب ہر واعہ میں کارفرما نظر آتے ہیں، ان میں اہم ترین عدم اتفاق، فرقہ وارانہ افترق اور حکمرانوں کا شدید بےغیرتی اور فسق وفجور میں مبتلا ہونا ہے

 

This is where January 27, 2009

Filed under: Pakistan, بقلم خود — لفنگا @ 5:36 am

I come from ..

 

چناب دھرتی October 15, 2008

Filed under: Pakistan, myself, بقلم خود — لفنگا @ 6:32 pm

سنا تم نے؟ بھارت نے جو مسئلہ 1948 میں کھڑا کیا تھا اس کو وہ پھر سے ہوا دے رہا ہے۔ ڈیم بنا رہا ہے بھارت بہت سے۔ کہتے ہیں چناب سے پانی روکے گا وہ۔ بجلی بنائے گا۔ نہریں کھودے گا۔ ہاں ہم تو معاہدے کرنے میں ماہر ہیں اور معاہدے بھی کیا اہمیت رکھتے ہیں جب ہمارم صدر محترم کہتے ہوں کہ معاہدے قرآن و حدیث تھو ڑی ہیں جو پورے کئے جا ئیں؟ تو بھارت کاہے کو سندھ طاس کی پاسداری کرے؟
لیکن اس سب سے تو چناب خشک ہو جائے گا۔ کہتے ہیں کہ دریا سوکھ جائیں تو زمینیں بنجر ہو جایا کرتی ہیں۔
آہ! میری چناب دھرتی۔ عبدالسلام کی دہرتی۔۔ ہیر رانجھا کی دہرتی۔۔ سوہنی مہینوال کی دہرتی۔۔۔۔۔
کیا آئیندہ یہاں فصلیں نا ہوا کریں گی؟
کیا عشق بھی نا کاشت ہو سکے گا؟
پر امجد اسلام امجد کا کہا سچ نہیں جو مجھے امید دلاتا ہے کہ
عشق ایسا دریا ہے کہ
بارش روٹھ بھی جائے
تو پنی کم نہیں ہوتا