ریل کی سیٹی میں کیسی درد کی تمہید تھی
تم کو رخصت کر کے لوٹا تو یاد آیا
شام ، اداسی، خاموشی
کچھ کنکر، تالاب اور میں
ہر شب پکڑے جاتے ہیں
گہری نیند، کتاب اور میں
زندگي
خواب كي صورت ہے
گزر جاتي ہے
خواب
پتوں كي طرح آنكھ سے
جھڑ جاتے ہيں
ميں۔۔۔
تري نيند ميں
ٹھرا ہو اك لمحہ ہوں
آنكھ كھلتے ہي
مجھے تم سے
بچھڑ جانا ہے