لاڈلا
ہمارے ملک میں لوگ سرکار کا نوکر بننے ( گورنمنٹ جاب) کے ہمیشہ سے شوقین رہے ہیں اور ان کی خو اہش اور دعا ہی رہتی ہے کہ ان کے ہاتھ سرکاری نوکری لگ ہی جائے.
چاہے اس کے لیے انہیں کوئی سفارش ڈھونڈنی پڑے یا رشوت دینی پڑے. رشوت کے پیسے تو پورے کر لینے کی امید پر ادا کیے جاتے ہیں کے دیے ہیں تو لے کر پورے کر ہی لئے جائیں گے.
تو جناب سرکاری نوکری کے اس قدر دیوانہ پن کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے بقول کسی دور دراز پسماندہ علاقے میں نوکری ملے تو تنخواہ وصولی کے دن جائین اور پورے مہینے کی حاضری لگاؤ تنخواہ لو اور گھر…
پر ہمارے ایک عددد دوست جو باعث تحریر آنکہ ہیں وہ اس قدر لاڈلے نکلے کہ کہتے ہیں کہ سرکاری نوکری مل جائے تو کوئی ایسا بندہ ڈھونڈ لیں گے جو تنخواہ بھی گھر پہنچا جایا کرے گا …..
لاڈلا June 24, 2009
میں June 23, 2009
شام ، اداسی، خاموشی
کچھ کنکر، تالاب اور میں
ہر شب پکڑے جاتے ہیں
گہری نیند، کتاب اور میں
بے چارے May 27, 2009
معصوم لوگ ہیں. کسی کو بھی تو تنگ نہیں کرتے. بس جگہ جگہ تاریک کونوں پر، ویران سڑکوں پر دو چار کھڑے ہوتے ہیں. شکل پر لاچاری اور مکاری کا حسین امتزاج ملتا ہے.
اور اپنے محکمہ کے سلوگن ” ہمارا فرض آپ کی مدد اور خدمت” پر پکے کاربند.
ان کی نظر اور آواز کا دبدبہ ایسا کہ بڑے بڑے پھنے خان ان کے سامنے بکری. اور ہمارے ملک میں تو شیطان کے بعد اگر کسی سے ڈر لگتا ہے اور خدا سے پناہ مانگو تو ہو یہ حضرات ہی ہیں.
ملک الموت کے حصے کے کام بھی اپنے ذمہ کر رکھے ہیں.
آپ کو روکیں گے. پہلا سوال ہو گاکہ کہاں سے آ رہے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں. اگر آپ بائیک پر سوار ہوں گے تو کہیں گے. گڈی دے کاغذ وکھاؤ.
کاغذ دکھا دیں تو لائیسنس مانگیں گے. اگر وہ بھی نا دکھا سکیں تو کچھ نہ کچھ مانگتے مانگتے اپنی آئی پر آ جائیں گے. پر اپنی پر آنے پر بھی کاغذ ہی طلب کرتے ہیں . پر کاغذ کے رنگ اور اس پر بنی بابائے قوم کی تصویر کا حوالہ دینے پر یا پھر کسی بڑے افسر کا حوالہ دینے پر ہی جان بخشی ہو گے…
اصول کے بڑے پکے ہیں.
جان تو آپ سب ہی گئے ہوں گے. اب نام لکھتے مجھے خوف آتا ہے.
مولانا فضل اللہ کے بارے سنا تھا کہ ٹرک چلایا کرتے تھے. اب جب ٹرک نے خیبر سے کراچی جانا ہو تو سر راہ عوام کے ان خادموں سے بھی ناکوں پر ملاقات ہوتی ہی رہی ہوگی.
کہتے ہیں کہ پٹواری صاحب کسی گاؤں جا رہے تھے بغل میں رجسٹر دبائے اور راستے میں سامنا ہو گیا ایک کتے سے. کتا پٹواری صاحب کو جانے نہ دے اور ان کو کاٹنے کو دوڑے. پٹواری صاحب تھک ہار کر بولے ” جے! تیرے ناں ایک مرلہ جگہ بھی ہوتی تو تمہیں بتاتا کہ پٹواری کس بلا کا نام ہے.”
تو جناب اب دور ہے طالبان کا اور کمان کر رہے ہیں بیت اللہ محسود صاحب. پرانے بدلہ نہ چکانے سے تو پاکستانی فلم مکمل نہیں ہوتی یہ تو حقیقت ہے.
بیچارے پنجاب پولیس والے تو ان دھماکوں کے زیرِعتاب ہی آ گئے ہیں. کبھی مناواں، کبھی لبرٹی تو آج ریسکیو والے. آج کے واقعے میں جانبحق ہونے والوں کی اللہ مغفرت فرمائے اور ملک میں امن و سکون قائم کرے.
ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے May 25, 2009
گدھ مردار خور ہے۔ خود شکار کر کے نہیں کھاتا۔ لیکن وہ درخت پر یا کیسے بلند جگہ پر بیٹھا انتظار کرے گا تاآنکہ جانور میں آخری سانسیں بھی دم توڑ جائیں
سرد علاقوں مین خوراک کی کمی ہو جاتی ہے تو وہاں رہنے والے برفانی بھیڑئے ایک دائرے کی شکل مین بیٹھ جاتے ہیں اور جاگتے ہیں۔ جاگنا ہی ان کے لئے زندگی کی امید ہے کیونکہ جو سو جائے باقی بھیڑئے اسے نوالہ بنا لیتے ہیں۔
یہ خونی جانور چاہے حرام خور ہوں یا خود سے شکار کر کے کھانے کے عادی ہوں۔ انتہائی مجبوری میں بھی کسی نہ کسی قائدے اور قانون کے پابند ہیں۔
اپنے بھائی کا گوشت کھانا بھی پڑے تو انتہائی مجبوری میں۔ پ پھر بھی کسی معاہدے کے تحتپر ہم انسان۔۔
افسوس ہے ہم پر کہ کہنے کو تو بات بات پر اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا دعوی کرتے پھرتے ہیں پر ہمارا عمل کیا ہے؟
پیٹ اور تجوریاں بھری ہوں گے پر اور لانے کے لیے چوری چکاری، دھوکہ فراڈ اور قتل و غارت گری تو معمولی بات ہے۔
زخیرہ اندوزی کرتے ہیں تا کہ بھوک اور طلب بڑہے اور پھر من مانے نرخ حاصل کریں۔
دکھاتے اور تولتے اچھا مال ہیں پرلفافے میں بند کر کے گھٹیا اور ناقص مال دیتے ہیں۔
یہ سب خصوصیات کسی اور قوم کی نہیں ہیں اپنی پاکستانی قوم کی ہیں۔ ایک تو ہم مسلمان اور اوپر سے سونے پر سہاگہ پاکستانی۔
کہتے ہیں کہ دوزخ میں مختلف آگ کے گڑھوں پر فرشتے تعین تھے جو وہاں موجود قیدیوں کو باہر نکلنے نہ دیتے تھے۔ ایک گڑھے پر کوئے پہریدار تعینات نہ تھا۔ اور نہ ہی وہاں سے کوئے نکل کر بھاگ رہا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہو کہ اس میں پاکستانی بند ہیں۔ اگر کوئی باہر نکلے تو باقی اس کی ٹانگ کھینچ لیتے ہیں۔
واہ
سیانے April 19, 2009
یہ جو پرانے زمانے کے سیانے گزرے ہیں۔ فارغ ہی رہا کرتے تھے۔ اور بس باتیں ہی بناتے رہے۔ جو آج کل ہم بے چارے بیوقوفوں کو بات بات پہ سننے کو ملتی ہیں۔ کہ سیانے یہ کہتے ہیں۔ بڑے وہ کہ گئے۔ لو !دسو جی۔۔۔
جحاں سلطانہ پڑھتی تھی April 18, 2009
جحاں سلطانہ پڑھتی تھیاختر شیرانی کی روح سے معزرت کے ساتھ
محبت April 13, 2009
جب بیٹی چوکھٹ پر کھڑی ہو
اور عزت کا بیوپار کرے
جب باپ کی عزت کھو جائے
جب قوم کی غیرت سو جائے
جب بھائی کو طعنے ملتے ہوں
جب بہنوں کے دل جلتے ہوں
جب ماؤں کی نظریں جھک جائیں
جب سانسیں لبوں پہ رک جائیں
جب شرم و حیا کا آمیزہ
جب ایک کنواری دوشیزہ
جب بے شرمی کو اپنا لے
جب خود کو ذلت میں ڈھالے
جب غیر کے سینے لگ جائے
اور اپنا آپ گنوا آئے
تو ایسی حالت کو اے لوگو!
ہم لوگ محبت کہتے ہیں
چلو چھوڑو April 13, 2009
چلو چھوڑو!
محبت جھوٹ ہے
عہدِ وفا اِک شغل ہے بیکار لوگوں کا
“ طلب“سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
“ خلش“ دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
“ خمارِ وصل“ تپتی دھوپ کے سینے پر اڑتے بادلوں کے رائیگاں بخشش
“غبار ِہجر“ صحرا میں سرابوں سے اَٹے موسم کا خمیازہ!!
چلو چھوڑو!
کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ
چاہت کی بنا رکھ کرسفر کرتا رہا ہوں گا
مجھے احساس ہی کب تھا
کہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے
رنگ بدلو گی!
چلو چھوڑو!
وہ سارے خواب کچی بُھربھُری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے
وہ سارے ذائقے میری زبان پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے
تمہاری انگلیوں کی نرم پور یں پتھروں پر نام لکھتی تھیں میرا‘ لیکن
تمھاری انگلیاں تو عادتاََ یہ جُرم کرتی تھیں۔۔۔!
چلو چھوڑو!
سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سر زد ہو کرتے ہیں
۔۔۔ صدیوں سے
چلو چھوڑو!
میرا ہونا نہ ہونا اِک برابر ہے
تم اپنے خال وخد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اِک نیا موسم اُترنے دو!
“ مرے خوابوں کو مرنے دو“
نئی تصویر دیکھو
پھر نیا مکتوب لکھو
پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو‘
مرے ماضی کی چاہت کو رائیگاں سمجھو
مری یادوں سے کچے رابطے توڑو
چلو چھوڑو۔۔۔!
محبت جھوٹ ہےعہدِوفااِک شغل ہے بیکار لوگوں کا
( محسن نقوی)
کوڑے April 8, 2009
ہم لوگ اتنے ماڈرن ہو چکے ہیں کہ ہمیں اسلامی سزائیں ظلم لگتی ہیں. ہمیں اسلامی سزائیں فرسودہ لگتی ہیں.
بلکہ یہ این جی اوز( غیر سرکاری تنظیم) تو اسلام کا بھی اپذیٹٹد اور اپڈیٹٹڈ ورژن مانگتی ہیں.
مجھے سوات کے واقعہ کی حقیقت کا علم نہیں نہ ہی میں اس کی حمایت یا مخالفت میں ہوں.
پر ہم مسلمان قوم ہیں اور ہمیں اسلامی شعائر اپنانے میں فخر ہونا چاہیے نہ کہ شرمندگی. سوات کے واقعہ کے خلاف جتنی بھی آوازیں اٹھیں سب گواہی دیں گے کہ سب کی سب بے پردہ اور نام نہاد ماڈرن خواتین تھیں.
اگر ہمارے نبی پاک صلئ اللہ علیہ وسلم کہ سکتے ہیں کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کی مرتکب ہوتے تو اس کے ہاتھ بھی کٹتے تو ہم کون ہیں ان سزائوں کے خلاف بولنے والے.ہاتھ کٹیں گے، سنگساری ہو گی، خون کا بدلہ خون ہو گا تو سب کی کل سیدھی ہو جاوے گی. سب مسلمانوں کی عظمت اور نجات اسلامی نظام حیات میں ہی ہے. اللہ ہم سب کی خطائیں بخش دے اور ہمیں اسلامی نظام کے نفاظ اور شریعت محمدی کے مطابق زندگی ڈھالنے اور گزارنے کی توفیق دے. آمین

