تُجھ کو معلوم نہیں،تُجھ کو بھلا کیا معلوم
ترے چہرے کے یہ سادہ سے اچھُوتے نقوش
مرے تخیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں
تری زلفیں، تری آنکھیں‘ترے عارض‘ترے ہونٹ
کیسی انجانی سی معصوم خطا کرتے ہیں
خلوتِ بزم ہو یا جلوتِ تنہائی ہو
ترا پیکر مری نظروں میں اَبھر آتا ہے
دھوپ میں سایہ بھی ہوتا ہے گریزاں جس دم
تری زلفیں مرے شانوں پر بکھر جاتی ہیں
تھک کے سر جب کسی پتھر پر ٹکا دیتا ہوں
تری با ہیں مری گردن میں سمٹ آتی ہیں
چلتے چلتے جو آپ قدم ٹھٹھک جاتے ہیں
سوچتا ہوں کہیں تُو نے پُکارا تو نہیں
بیٹھے بیٹھے گم سی ہو جاتی ہیں نظریں تو خیا ل آتا ہے
اِس میں پنہاں تری آنکھوں کا کوئی اشا رہ تو نہیں
میں سمجھ بھی لوں گر اس کو محبت کا جنوں
تجھ کو اس عشقِ جنوں خیز سے نسبت کیا ہے؟

Advertisements