چاند سورج سے، ستاروں سے آسمان خفا ہے
دشت سے دشت ، انسان سے انسان خفا ہے۔
ميں كسي اور سے شكوہ كروں كيسے كہ مُجھ سے
ميرے كمرے كا بكھرا ہوا سامان خفا ہے۔
تمام بستي بہہ گئي فقط گھر ميرا
نہيں ڈوُبا كہ شايد اُس سے طوفان خفا ہے۔
كہاں كوئي جانتا ہے تقدير كے پھيرے
تُم جو روٹھے تو مُجھ سے سب جہان خفا ہے۔
ميرے حُواس پر ہيں جيسے بجلياں سي گر پڑي
ميرے وجود سے ميرا ہي گُمان خفا ہے۔
زندگي بسرنے كو خُواہشات طلب ہيں
مگر يہاں دل سے ہي ارمان خفا ہے۔
ميں اُس كي جانب چلنے كو تيار ہوں ليكن
ميں كيا كروں ميرے كانوں سے آذان خفا ہے۔
Advertisements