ايش ٹرے ميں پڑي
دم توڑتي سگريٹ كي طرح
نا تواں ذہن كے بيمار ادب گوشوںسے
كورے كاغذ پہ وہ تخليق كا رس
اپنے اشكوں ميں بھگوئے ہوئے قطرہ قطرہ
خالي بوتل ميں بچے تھوڑے سے كيچپ كي طرح
باہر انڈيل رہا تھا اب بھي
بانجھ سوچوں سے بھلا پھول كہاں اگتے ہيں
بند دريچوں سے بھلا ھوا كيسے گزرے گي
ايش ٹرے ميں پڑي
دم توڑتي سگريٹ كا دھواں
دور تك اُڑ كے نہيں جا سكتا
بند كمرے كي فضاؤں ميں ٹھر جاتا ہے
سانس كے ساتھ زہر بن كے اُتر جاتا ہے۔۔۔

Advertisements