جب كبھي بھي ميں پرانے زمانے كي باتيں سنتا ہوں ‘ تاريخ
پڑہتا ہوں يا پھر مستقبل كے بارے ميں پيشين گوئياں سنتا ہوں اورپھر ان سب باتوں پر
غور كرتا ہوں تو ميرے زہن ميں ايك عجيب سا خيال آتا ہے۔۔۔

اگر ہم ماضي كے واقعات كو مختلف حصوں ميں تقسيم كر ليں۔جيسے

زمانہ قبل از تاريخ

اور

نبي پاك محمد صلٰي اللہ عليہ وصلم

كا زمانہ اسي طرح

غالب وغيرہ كا زمانہ

وغيرہ و غيرہ۔۔۔۔
“ہم سنتے ہيں كہ ماضي ميںفلاں واقعہ رونما ہوا۔ آج كل يہ ہو رہا ہے۔ آيندہ آنے والے دنوں ميں يہ ہو سكتا ہے۔”
تو ان سب كے بارے ميں مجھے ايسا لگتا ہے جيسے

ماضي’

حال اور

مستقبل

سب ايك ہي وقت ميں اس كائينات ميںموجود ہيں اور ان سب كے درميان ايك

انجانا پردہ

ہے ليكن ان سب كے درميآن

رابطہ

موجود ہے اور كسي نہ كسي زريعہ سے ايك زمانے كي باتيں’ واقعات اور خبريں ايك دوسرے تك پہنچ رہي ہيں يعني تمام زمانے’ واقعات ايك دوسرے كے

متوازي

چل رہے ہيں۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements