سنا تم نے؟ بھارت نے جو مسئلہ 1948 میں کھڑا کیا تھا اس کو وہ پھر سے ہوا دے رہا ہے۔ ڈیم بنا رہا ہے بھارت بہت سے۔ کہتے ہیں چناب سے پانی روکے گا وہ۔ بجلی بنائے گا۔ نہریں کھودے گا۔ ہاں ہم تو معاہدے کرنے میں ماہر ہیں اور معاہدے بھی کیا اہمیت رکھتے ہیں جب ہمارم صدر محترم کہتے ہوں کہ معاہدے قرآن و حدیث تھو ڑی ہیں جو پورے کئے جا ئیں؟ تو بھارت کاہے کو سندھ طاس کی پاسداری کرے؟
لیکن اس سب سے تو چناب خشک ہو جائے گا۔ کہتے ہیں کہ دریا سوکھ جائیں تو زمینیں بنجر ہو جایا کرتی ہیں۔
آہ! میری چناب دھرتی۔ عبدالسلام کی دہرتی۔۔ ہیر رانجھا کی دہرتی۔۔ سوہنی مہینوال کی دہرتی۔۔۔۔۔
کیا آئیندہ یہاں فصلیں نا ہوا کریں گی؟
کیا عشق بھی نا کاشت ہو سکے گا؟
پر امجد اسلام امجد کا کہا سچ نہیں جو مجھے امید دلاتا ہے کہ
عشق ایسا دریا ہے کہ
بارش روٹھ بھی جائے
تو پنی کم نہیں ہوتا

Advertisements