Tags

, , , , ,

ملت اسلامیہ کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ میں بعض انتہائی عبرتناک لمحات بھی شامل ہیں، اس قسم کے سانحات کی تکرار سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، ایک یہ کہ قوموں کے عروجوزوال یا بلندی و پستی یا عزتوزلت کے بالے میں قرآن مجید میں جو قانون بیان فرمائے گئے ہیں وہ اٹل ہیں اور ان قوانین کے اطلاق میں قدرت یہود،نصارٰی یا مسلم قوم کے درمیان کوئی امتیاز روا نہیں رکھتی۔ قانون قدرت سب کے لئے یکساں ہے، دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ قدرت ابھی تک مسلمانوں سے نا امیس نہیں ہوئی ہے۔

ہر بڑآ صدمہ، سقوط بغداد ہو یا سقوط اندلس یا سقوط ڈھاکہ، یا سقوط افغانستان یا عراق، ملت اسلامیہ کو جھنجھوڑنے اور خواب غفلت سے جگانے کے لئے رونما ہوتا رہا، اگر قدرت اس قوم سے مایوس ہو چکی ہوتی تو یہ جھٹکے بار بار نہ لگائے جاتے۔ عضو معطل کو بحال کرنے کیلئے برقی جھٹکے اسی اصول کے تحت لگائے جاتے ہیں، اگر عضو خراب اور ناکارہ ہو تو پھر کاٹنا ضروری ہوتا ہے، یقیناً جڑ کاتنے کی نوبت ابھی نہیں آئی ورنہ قرآن میں قوم عاد، قوم ثمود ، قوم جوح اور قوم لوط جیسی قوموں کا زکر ملتا ہے جن کی اصلاح پذیری سے مایوسی کے بعد قدرت کی ظرف سے ان قوموں کی جڑ ہی کاٹ دی گئی۔

تا ہم اس اطمینان کا کوئی پہلو نہیں کہ قدرت ابھی تک ہم سے نا امید نہیں ہوئی۔ ناامید نہ ہونا اور بات ہے اطمینان ہونا کچھ اور۔ تمام قرائن و شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ رب سمٰوات و عرض مسلمانوں سی ہرگز راضی نہیں۔ آج مسلمان دنیا میں ہر جگہ زلتوخواری میں مبتلا ہیں۔ کشمیر، بوسنیا، کوسووا، چیچنیا، عراق، افغانستان، ہندوستان، فلسطین، پاکستان غرض دنیا کے ہر گوشے میں مسلمانوں کا ہی خون بہہ رہا ہے۔باہمی فسادات، خانہ جنگی، برادر کشی ، غداری قدرت کی طرف سے تعز یر کی مختلف صورتیں ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ میں تمام بڑے سانحات و حادثات کے مخصوص اسباب تھے، تاہم بعض اسباب ہر واعہ میں کارفرما نظر آتے ہیں، ان میں اہم ترین عدم اتفاق، فرقہ وارانہ افترق اور حکمرانوں کا شدید بےغیرتی اور فسق وفجور میں مبتلا ہونا ہے

Advertisements