Tags

ہم لوگ اتنے ماڈرن ہو چکے ہیں کہ ہمیں اسلامی سزائیں ظلم لگتی ہیں. ہمیں اسلامی سزائیں فرسودہ لگتی ہیں.
بلکہ یہ این جی اوز( غیر سرکاری تنظیم) تو اسلام کا بھی اپذیٹٹد اور اپڈیٹٹڈ ورژن مانگتی ہیں.
مجھے سوات کے واقعہ کی حقیقت کا علم نہیں نہ ہی میں اس کی حمایت یا مخالفت میں ہوں.
پر ہم مسلمان قوم ہیں اور ہمیں اسلامی شعائر اپنانے میں فخر ہونا چاہیے نہ کہ شرمندگی. سوات کے واقعہ کے خلاف جتنی بھی آوازیں اٹھیں سب گواہی دیں گے کہ سب کی سب بے پردہ اور نام نہاد ماڈرن خواتین تھیں.
اگر ہمارے نبی پاک صلئ اللہ علیہ وسلم کہ سکتے ہیں کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کی مرتکب ہوتے تو اس کے ہاتھ بھی کٹتے تو ہم کون ہیں ان سزائوں کے خلاف بولنے والے.ہاتھ کٹیں گے، سنگساری ہو گی، خون کا بدلہ خون ہو گا تو سب کی کل سیدھی ہو جاوے گی. سب مسلمانوں کی عظمت اور نجات اسلامی نظام حیات میں ہی ہے. اللہ ہم سب کی خطائیں بخش دے اور ہمیں اسلامی نظام کے نفاظ اور شریعت محمدی کے مطابق زندگی ڈھالنے اور گزارنے کی توفیق دے. آمین

Advertisements