یہ جو پرانے زمانے کے سیانے گزرے ہیں۔ فارغ ہی رہا کرتے تھے۔ اور بس باتیں ہی بناتے رہے۔ جو آج کل ہم بے چارے بیوقوفوں کو بات بات پہ سننے کو ملتی ہیں۔ کہ سیانے یہ کہتے ہیں۔ بڑے وہ کہ گئے۔ لو !دسو جی۔۔۔

Advertisements