گدھ مردار خور ہے۔ خود شکار کر کے نہیں کھاتا۔ لیکن وہ درخت پر یا کیسے بلند جگہ پر بیٹھا انتظار کرے گا تاآنکہ جانور میں آخری سانسیں بھی دم توڑ جائیں
سرد علاقوں مین خوراک کی کمی ہو جاتی ہے تو وہاں رہنے والے برفانی بھیڑئے ایک دائرے کی شکل مین بیٹھ جاتے ہیں اور جاگتے ہیں۔ جاگنا ہی ان کے لئے زندگی کی امید ہے کیونکہ جو سو جائے باقی بھیڑئے اسے نوالہ بنا لیتے ہیں۔
یہ خونی جانور چاہے حرام خور ہوں یا خود سے شکار کر کے کھانے کے عادی ہوں۔ انتہائی مجبوری میں بھی کسی نہ کسی قائدے اور قانون کے پابند ہیں۔
اپنے بھائی کا گوشت کھانا بھی پڑے تو انتہائی مجبوری میں۔ پ پھر بھی کسی معاہدے کے تحتپر ہم انسان۔۔
افسوس ہے ہم پر کہ کہنے کو تو بات بات پر اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا دعوی کرتے پھرتے ہیں پر ہمارا عمل کیا ہے؟
پیٹ اور تجوریاں بھری ہوں گے پر اور لانے کے لیے چوری چکاری، دھوکہ فراڈ اور قتل و غارت گری تو معمولی بات ہے۔
زخیرہ اندوزی کرتے ہیں تا کہ بھوک اور طلب بڑہے اور پھر من مانے نرخ حاصل کریں۔
دکھاتے اور تولتے اچھا مال ہیں پرلفافے میں بند کر کے گھٹیا اور ناقص مال دیتے ہیں۔
یہ سب خصوصیات کسی اور قوم کی نہیں ہیں اپنی پاکستانی قوم کی ہیں۔ ایک تو ہم مسلمان اور اوپر سے سونے پر سہاگہ پاکستانی۔
کہتے ہیں کہ دوزخ میں مختلف  آگ کے گڑھوں پر فرشتے تعین تھے جو وہاں موجود قیدیوں کو باہر نکلنے نہ دیتے تھے۔ ایک گڑھے پر کوئے پہریدار تعینات نہ تھا۔ اور نہ ہی وہاں سے کوئے نکل کر بھاگ رہا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہو کہ اس میں پاکستانی بند ہیں۔ اگر کوئی باہر نکلے تو باقی اس کی ٹانگ کھینچ لیتے ہیں۔
واہ

Advertisements