Tags

معصوم لوگ ہیں. کسی کو بھی تو تنگ نہیں کرتے. بس جگہ جگہ تاریک کونوں پر، ویران سڑکوں پر دو چار کھڑے ہوتے ہیں. شکل پر لاچاری اور مکاری کا حسین امتزاج ملتا ہے.

اور اپنے محکمہ کے سلوگن ” ہمارا فرض آپ کی مدد اور خدمت” پر پکے کاربند.

ان کی نظر اور آواز کا دبدبہ ایسا کہ بڑے بڑے پھنے خان ان کے سامنے بکری. اور ہمارے ملک میں تو شیطان کے بعد اگر کسی سے ڈر لگتا ہے اور خدا سے پناہ مانگو تو ہو یہ حضرات ہی ہیں.

ملک الموت کے حصے کے کام بھی اپنے ذمہ کر رکھے ہیں.

آپ کو روکیں گے. پہلا سوال ہو گاکہ کہاں سے آ رہے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں. اگر آپ بائیک پر سوار ہوں گے تو کہیں گے. گڈی دے کاغذ وکھاؤ.

کاغذ دکھا دیں تو لائیسنس مانگیں گے. اگر        وہ بھی نا  دکھا سکیں تو کچھ نہ کچھ مانگتے مانگتے اپنی آئی پر آ جائیں گے. پر اپنی پر آنے پر بھی کاغذ ہی طلب کرتے ہیں . پر کاغذ کے رنگ اور اس پر بنی بابائے قوم کی تصویر کا حوالہ دینے پر یا پھر کسی بڑے افسر کا حوالہ دینے پر ہی جان بخشی ہو گے…

اصول کے بڑے پکے ہیں.

جان تو آپ سب ہی گئے ہوں گے. اب نام لکھتے مجھے خوف آتا ہے.

مولانا فضل اللہ کے بارے سنا تھا کہ ٹرک چلایا کرتے تھے. اب جب ٹرک نے خیبر سے کراچی جانا ہو تو سر راہ عوام کے ان خادموں سے بھی ناکوں پر ملاقات ہوتی ہی رہی ہوگی.

کہتے ہیں کہ پٹواری صاحب کسی گاؤں جا رہے تھے بغل میں رجسٹر دبائے اور راستے میں سامنا ہو گیا ایک کتے سے. کتا پٹواری صاحب کو جانے نہ دے اور ان کو کاٹنے کو دوڑے. پٹواری صاحب تھک ہار کر بولے ” جے! تیرے ناں ایک مرلہ جگہ بھی ہوتی تو تمہیں بتاتا کہ پٹواری کس بلا کا نام ہے.”

تو جناب اب دور ہے طالبان کا اور کمان کر رہے ہیں بیت اللہ محسود صاحب. پرانے بدلہ نہ  چکانے سے تو پاکستانی فلم مکمل نہیں ہوتی یہ تو حقیقت ہے.

بیچارے پنجاب پولیس والے تو ان دھماکوں کے زیرِعتاب ہی آ گئے ہیں. کبھی مناواں، کبھی لبرٹی تو آج ریسکیو  والے. آج کے واقعے میں جانبحق ہونے والوں کی اللہ مغفرت فرمائے اور ملک میں امن و سکون قائم کرے.

Advertisements