Tags

, , ,

میرے بچپن کے دن- ہفتہ بلاگستان
میری جائے پیدائیش ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ ہے پر آپ مجھے بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ کہنے سے گریز کر سکتے ہیں کیونکہ میرے بڑے بھائی کے اسرار پر کہ یہاں گاؤں مین رہتے ہو ئے تعلیمی سہولیات کا فقدان رہے گا۔ چنانچہ میں تین سال کا تھا تو ہمارا خاندان ضلع جھنگ ہجرت کر گیا۔ باعث آنکہ میرا بچپن محلہ بھبڑانہ، ضلع جھنگ میں گزرا۔
کیا شاندار بچپن تھا۔ جب ہوش سنبھالا اور دل دوستیوں کے قابل ہوا تو عمران ساجد ( مانی) اور عتیق کو اپنے دوستوں کے روپ میں پایا۔
عیتق کے والد صاحب سخت طبیعت کے مالک تھے چنانچہ  عتیق کا ہمارے ساتھ وقت گزارنا بہت محدود تھا کیونکہ اس کے گھر سے غائب ہوتے ہی اس کے بڑے بھائی اسکی تلاش شروع کر دیتے تھے اور جلد اس میں کامیاب بھی ہو جاتے تھے۔
تو میری بچپن کی یادوں میں زیادہ حصہ مانی کا ہی ہے۔ ہم دونوں سورج اگنے سے لے کر شام ڈھلنے تک گھر سے غائب رہتے تھے اور یہ وقت ادھر ادھر آوارا گردی  میں ہے صرف کیا جاتا تھا۔
کبھی باغبانی کا شوق ہو جاتا تو محلے میں لوگ جہاں اپنے گھروں کا کو ڑا پھینکتے تھے اس ڈھیر میں  پھلوں کی گٹھلیوں سے چیند دن بعد ایک ننھا سا پودا نکل آتا جس پر ہمیں بہت پیار اور ترس آتا کہ بے چارا اکیلا گند میں پھلے پھولے گا تو اچھا آدمی نا بن سکے گا چنانچہ اسے ویاں سے اکھاڑ کر گھر لے آتے۔ گھر میں لان کی سہولت تو دستیاب نہ تھی تو اپنے باغبانی کے شوق کی آبیاری کے لیے صحن سے چند اینٹیں اکھاڑ دی جاتی۔ پھر اس میں سے ایک فٹ تک ریت اور مٹی نکال دی جاتی۔ بالٹی اٹھاتے اور قریبی کھیت سے مٹی بھر کر لائی جاتی اور اپنے اس دو مربع فٹ کے باغ میں زرخیز مٹی دال دی جاتی۔ اور اس پودے کو وہاں گھر کے صحن میں اچھا ماحول دے کر پانی دے کر کسی نئی مہم پر نکل جاتے۔ گھر واپسی پر امی سے صلواتیں سنتے کہ سارے فرش کا ستیا ناس کر دیا اور دیکھنے پر پودا تو کیا باغ بھی ندارد۔ ۔۔۔۔
گرمی کی دوپہر میں ہم لوگوں کے فرار کے ڈر سے گھر کے داخلی اور خارجی تمام راستے مسدود کر دیے جاتے لیکن ہم دوستوں کو کون جدا کر سکتا تھا۔ ہم براستہ کھڑکی یا چھت کے راست گھر سے مفرور ہونے میں کامیاب ہو ہی جایا کرتے چاہے گھر میں داخلہ آنسو بہا کر ہی ملا کرتا تھا یا باجی کو ہم پر رحم آ جایا کرتا تھا۔
گرمیں کی دوپہر میں نیکر پہنے ننگے پاؤں کڑی دھوپ ( یہ تو اب احساس ہوتا ہے وگرنہ تب تو گرمی کا آحساس تک نہ تھا )میں آوارہ گردی کرتے ۔ گھر کے قریب کھیت تھے اور ٹیوب ویل تھا جہاں نہاتے رہتے تھے۔ پتنگ تو کبھی نہیں اڑائی ہر ڈور خود تیار کرتے تھے۔ شاید آپ میں سے کوئی جانتا ہو کے آجکل تو بازار سے پلاسٹک کی بنی بنائی ڈور ملتی ہے پر پہلے لوگے خود ڈور تیار کرتے تھے۔ پھول مارکہ دھاگا، سریش، کچ۔ یہ اجزا تھے اس ڈش کے۔۔۔۔
ہماری تیار کردہ ڈور ہم سے بڑے کزن چھین لیا کرتے جس کا بدلہ اسی ڈور کو دانتوں سے جگہ جگہ ٹک لگا کر لیا جاتا۔
بچپن کا ایک یادگار واقعہ یہ ہے کہ اک بار مانی میرے پاس آیا کہ یہ دیکھو 100 روپیہ۔ یہ بات شاید 1992 کی ہے جب میں آٹھ سال کا تھا۔ یہ بہت بڑے رقم تھی۔ تب گھر سے دو روپے ملا کرتے تھے روزانہ۔ تو جناب ہم نے اپنی مہم کا آغاز کیا اور بازار سے جلیبیاں کھائی۔ گلی ڈنڈا بنوایا۔ لٹو بنوایا، سٹکر خریدے۔ پلاسٹک کا ٹریکٹر ٹرالی خریدی۔ پر ہم معصوم کیا جانتے تھے کہ گلی ڈنٹا جو ہم لے کر گھر پہنچے تو واپسی پر ہمارے ساتھ کیا ہو نے والا ہے۔ گلی میں ہی مانے کی امی اور میری امی کی میٹنگ جاری تھی۔ ان کو دیکھتے ہی مانی گھبرا کر بھاگ گیا۔ میں بڑا حیران ہوا اس کی اس حرکت پر کہ اس نے تو کبھی ساتھ نہ چھوڑا تھا آج کیا بنا۔ وہ تو جب اسے ڈنڈے سے مرمت ہوئی تو عیاں ہوا کہ مانہ وہ پیسے گھر سے چرا کر لایا تھا۔۔۔۔۔
ہم دونوں کے ساتھ پھرنے پر پابندی تھے لیکن ہم کہاں رکنے والے تھے۔
اس سب سے تعلیم کی باتیں اس لیے غائب نہیں کہ ہمارا سکول سے کو ئی واستہ نہ تھا۔ بلکہ تعلیمی باتیں اگلی پوسٹ میں

Advertisements