کافی سوچ بچار کے بعد بھی کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا لکھوں۔ تعلیم کا نام آتے ہی دماغ کی بتی بجھ گئی۔ لوڈ شیڈنگ کے حامل ملک کا باسی ہوںنا۔۔۔
میں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے گھر پر ہی حاصل کی۔ اردو سائینٹفک قاعدہ میری پہلے کتاب تھی۔ اس کے علاوہ ایک سلیٹ اور سلیٹی بھی میرے اوزار تعلیم میں شامل تھے۔ سلیٹ پر لکھتا کم  تھا کارٹون زیادہ بناتا تھا۔ کارٹون بھی ایسے کہ میرے ہزار ہا کہنے کے باوجود بھی کوئی ماننے کو تیار نہ ہو تا کہ یہ ا اونٹ، ب بکری اور پ پنکھا بنایا ہے میں نے۔۔۔۔
والد صاحب گھر ایک مڈل سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ پہلی بار ان کی خواہش پر جماعت دوم میں سکول کی شکل دیکھی۔ وہ ایک گاؤں کا مڈل سکول تھا۔ جہاں ہیڈ ماسٹر کا فرزند ہونے کے باعث  مجھے خصوصی توجہ دی جاتی۔ اس خصوصی توجہ کا مجھے یہ فائدہ ہوا کہ مجھے سزا کا ڈر نہ ہوتا اور نہ ہی سبق یاد کرنے کی ضرورت۔
کلاس روم شیشم کے درختوں تلے تھا اور سیٹیں ٹاٹوں کی جو طلباء گھروں سے لاتے تھے۔ جماعت دوم میں میری مہارت صرف اردو پڑہنا لکھنا تھی۔ گنتی یعنی حساب کے چند الفاظ سے ہم جماعتوں کی زبانی شناسائی تھی کہ ایک دونی دونن، دو دونی چار کے الفاظ سنے سنے لگا کرتے تھے۔ ناواقف نہیں تھا۔
والد صاحب کے تبادلہ نے میری تعلیم اس آرام دہ اور پر کشش سکول سے میرا ناتا توڑ دیا۔ اور مجھے اپنے ہی شہر کے ایک پرائمری سکول کا طالب علم بنا دیا گیا جہاں نہ تو والد صاحب کا اثرو رسوخ تھا نہ میں لاڈلا۔ وہاں پہلے پہل تو مجھے نالائق بھانڈا کا خطاب ملا بعد ازاں سبق سنانے کی بجائے رونے کی پاداش میں رونی بھیڑ کا خطاب۔
ان ناگہانی وجوہات کی بنا پر میں سکول سے متنفر ہو گیا اور اماں کی سفارش پر مجھے والد صاحب نے دوسرے سکول میں تیسری جماعت میں داخل کروادیا اگرچہ اب بھی ذہن پر زور دینے سے بھی  یاد نہیں آتا کہ کیا میں نے کبھی دوسرے جماعت کا امتحان بھی دیا تھا کہ نہیں۔۔۔
نئے سکول میں نیا ہنر سیکھا۔ ایک دن ایک ہم جماعت نے اپنا بستی کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔ اور مجھے بھی ایسا کرنے کا مشورہ دیا اور مجھے یہ کام دلچسپ لگا۔ پھر اس نے مجھے کہا کہ استاد صاحب سے پانی کی اجزت مانگ کر باہر جاؤ اور میرا انتطار کرو۔ کچھ دیر بعد وہ دوست بھی باہر آ گیا۔ پھر سارا دن بازاروں کی سیر کی اور چھٹی کے وقت تک گھر۔ کچھ دن یہ سلسلہ چلا پر بازاروں میں پھرنا مجھے اچھا نہ لگتا۔ پر بستہ باہر کھڑکی سے سڑک پر پھینکنا اچھا مشغلہ تھا۔ جب ایک ہفتہ تک گھر جلدی آنے لگا تو وجہ پوچھنے پر بتایا کہ سکول میں دل نہیں لگتا۔ اس جواب پر جو درگت بنی آج تک ٹیسیں اٹھتی ہیں۔
اس بار والد صاحب نے ایک غیر سرکاری سکول میں داخل کروایا جہاں ون ٹو ٹین نامی کوئی چیز پڑہائی جاتی تھی۔ پہلے دن جب مس نی ون ٹ ٹین لکھنے کو کہا مجھے کیا پتا کس بلا کا نام ہے۔ لیکن میں نے اپنے ساتھ والی کرسے پر بیٹھی ایک لڑکی کی نقل کر کے کچھ آڑہ ترچھی لکیریں کھینچی پر عزت کہاں راس نقل کرتا پکڑا گیا اور چٹاخ سے شند طمانچے گالوں پر رسید ہوئے اور یہ الفاظ دل پر رقم ہو گئے کہ   شرم نہیں آتی لڑکی کی نقل کرتے۔ بس دن بدلے پڑہنے کا ایسا شوق جا گا کہ تب سے اب تک پڑہے چلا جا رہا ہوں۔ لوگ کہتے تھے کہ سولہ جماعتیں ہوتی ہیں۔ پر میں تو آٹھارویں مین پہنچ چکا پر وہ سلسلہ رکنے کو نہیں۔
وہ بہن جسکی نقل کر کے ون ٹو ٹین لکھنا چاہا تھا ڈاکٹر بن چکی اور ہم بھی مقابلے کیں بیس جماعتیں پڑہ کر ڈاکٹر کہلوانے کا زوق شوق پالے پھرتے ہیں۔ دیکھو جماعتیں ختم ہوں گے کہ زندگی۔۔۔

Advertisements