ستارے بانٹتا ہے وہ ضیاع تقسیم کرتا ہے

سُنا ہے حبسِ موسم میں ہوا تقسیم کرتا ہے

اُسکی اپنی بیٹی کی ہتھیلی خشک رہتی ہے

جو بوڑھا دھوپ میں اکثر حِنا تقسیم کرتا ہے

کوئی روکے اُسے جا کرسراسر ہے یہ پاگل پن

جو بہروں کے مُحلے میں صدا تقسیم کرتا ہے

اُسی سے مانگ تُو ساقی باقی چھوڑ دے سب کو

جو پتھر میں بھی کیڑے کو غذا تقسیم کرتا ہے

Advertisements