Tags

کل وزیرِاعظم (اسلامی) جمہوریہ پاکستان جناب یوسف رضا گیلانی صاحب نے چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتِخار محمد چوہدری کی طرف سے جسٹس خلیل الرحمان رمدے کیلئے دیے گئے عشایئے میں شرکت کی اور بڑے شگفتہ لہجے میں مجھ سمیت پورے پاکستان کو آج سہ پہر تین بجے ایک خوشخبری کا عندیہ دیا۔ اس کے بعد سے ہمارے آزاد میڈیا نے اس بات کو چیونگم کی طرح طول دیا اور خوشخبری کے آنے تک اسی خوشخبری کی قیافہ شناسیاں کرتے رہے۔ آئینی حوالے ڈھونڈتے رہے۔

میرے جیسے ایک عام آدمی کو بھی سب سے بھاری شخص کی گزشتہ عادات کی بنیاد پر علم تھا کہ حکومت کو اپنا تھوکا چاٹنے کا جو چسکا پڑ چکا ہے اور اپنی اس پسندیدہ ڈش کا مزہ چکھنے سے باز کہاں آئے گی۔  NRO  پارلیمنٹ میں لانے کی پھلجھڑی چلائی پر نتائج سے آگاہ ہوتے ہی وہ پھلجھڑی پُھس ہو گئی۔ یہی حال تازہ صدارتی نوٹیفیکشن کا ہوا۔

لیکن میں تو اس خوشخبری کو  لے کر بہت سے خواب بن چکا تھا۔ بہت سوچا کہ کیا خوش خبری ہو سکتی ہے۔ کبھی سوچا کہ شاید حکومت نے فیصلہ کر لیا کہ  NRO  زدہ افراد  اعلان کریں گے کہ ہم استعفٰی دے رہے اور ان سب کا جنگی بنیادوں پر ٹرائل ہو گا۔ آصف علی زرداری اپنی بیوی کے قاتلوں کا نام بتا کر طیارہ لے کر سوئس بنک سے لوٹی دولت واپس لینے جا پہنچیں گے کہ واپس کرو اور اس کے بعد اعلان کریں گے کہ میں اب اللہ اللہ کروں گا۔

میں تو یہاں تک خوش فہم ہو گیا کہ تین بجے سے آٹا دس روپے کلو، چینی بیس روپے کلو اور پیٹرول پچاس روپے لیٹر کر دیا جائے گا۔ اور پاکستان اعلان کرے گا کہ اوبامہ بھائی ہماری بہن ڈاکٹر عافیہ سے معفی مانگو ، اسے عزت سے واپس پاکستان بھیجو ورنہ اپنی جنگ سمیٹو اور کوئی اور فرنٹ لائن سٹیٹ ڈھونڈو دہشتگردی ختم کرنے کے واسطے۔

رات کے ایک پہر تو مجھے یہ بھی لگ رہا تھا کہ تمام سیاستدانوں کو ایک ایسے بحری جہاز میں سوار کر دیا گیا ہے جو بحر ہند میں ڈوبنے کے لئے روانہ کیا جا رہا ہے۔

پر کیا کریں

’ خواب تو خواب ہیں

ان پہ بندش نہیں

لاکھ تراشو تم

پانیوں سے تو کوئی جسم ڈھلتا نہیں“

سب پاکستانی مل کے دعا کریں کے اللہ ہمارے پاکستان کو اسلام کا حقیقی قلعہ بنائے جسکی بنیاد قرآن و حدیث پر قائم ہو۔ جہاں چارٹر آف ڈیمو کریسی نہ ہو بلکہ خطبہ حجۃالوداٖع چارٹر کی حیثیت رکھتا ہو۔ آمین

Advertisements